سویڈن میں ریپ کا شکار مردوں کے لیے پہلا کلینک

تصویر کے کاپی رائٹ SPL
Image caption سویڈن کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں گذشتہ سال مردوں اور لڑکیوں پر جنسی حملوں کے 370 واقعات رپورٹ ہوئے

سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں ایک ہسپتال نے ریپ کا شکار ہونے مردوں کے لیے ایمرجنسی کلینک کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

ساؤتھ جنرل ہسپتال میں ایسی خواتین کے لیے پہلے ہی ہنگامی طبی امداد کا مرکز کام کر رہا ہے جنھیں ریپ کیا گیا ہو یا ان پر جنسی حملہ کیا گیا ہو۔

تاہم ہسپتال نے اعلان کیا ہے کہ اکتوبر سے اسی طرح کی سہولت مردوں اور لڑکوں کے لیے بھی دستیاب ہو گی۔

ڈاکٹر لوٹی ہیلسٹورم نے ریڈیو سویڈن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عام رائے کے مطابق مردوں کو ریپ نہیں کیا جاتا۔

انھوں نے کہا کہ مردوں کے ریپ کے بارے میں بات کرنے کی اب بھی ممانعت ہے لیکن لوگوں کی سوچ کے برعکس یہ خاصا عام ہے۔

ڈاکٹر لوٹی کے مطابق یہ اہم ہے کہ مردوں کو بھی برابری کی سطح پر ہنگامی طبی سہولیات میسر ہوں۔

ہسپتال میں ریپ سے متاثرہ خواتین کے لیے 24 گھنٹے مکمل طبی سہولیات دستیاب ہیں جس میں ماہرینِ نفسیات اور سماجی کارکنوں کی مدد بھی حاصل ہے۔

سویڈن میں جنس سے متعلق تعلیم کی ایسوسی ایشن ’آر ایف ایس یو‘نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔

ایسوسی ایشن کے ترمان اینجر بوجورکونڈ نے ایک مقامی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کلینک مردوں کے لیے مختص کرنے کے نتیجے میں مردوں پر ہونے والے جنسی حملوں کے مسئلے کے بارے میں شعور پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

سویڈن کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں گذشتہ سال مردوں اور لڑکوں پر جنسی حملوں کے 370 واقعات رپورٹ ہوئے۔

اسی بارے میں