’دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں سنّی قبائل کی شرکت کلیدی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایش کارٹر کے علاوہ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے بھی کمیٹی کو عراق اور شام کے بارے میں بریفنگ دی

اعلیٰ امریکی حکام نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی کے لیے عراقی حکومت کے عزم پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں رواں برس موسمِ خزاں تک 24 ہزار نئے فوجیوں کی بھرتی کا ہدف حاصل کرنا ناممکن ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع ایشٹن کارٹر نے یہ بات بدھ کو واشنگٹن امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں عراقی حکومت کے تمام محکموں اور شعبہ جات کی جانب سے زیادہ مصمم عزم کے اظہار کی ضرورت ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اگرچہ موسمِ خزاں تک 24 ہزار نئے فوجیوں کی بھرتی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا تاہم اب تک صرف سات ہزار فوجی ہی بھرتی کیے گئے ہیں۔

ایش کارٹر نے کہا کہ امریکی تربیت کار کسے تربیت دیں ’جب ہمارے پاس کافی تعداد میں نئے فوجی ہی نہ ہوں۔‘

امریکی وزیرِ دفاع نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ کے لیے عراق کے سنّی قبائل کو بھی تیار کرنے اور ساتھ ملانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری کوشش کثیر الفرقہ بنیادوں پر ہونی چاہیے۔‘

اس سوال پر کہ کیا مزید 450 فوجی دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ تعداد سے کہیں زیادہ اہم جنگ کا مقام ہے جو کہ سنّی اکثریتی آبادی کے دل میں واقع ہے۔

امریکہ پہلے بھی عراقی حکومت پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ ملک کے تینوں بڑے نسلی گروہوں یعنی شیعہ، سنّی اور کرد آبادی کو زیادہ نمائندگی دے اور تینوں کو حکومت کا حصہ بنایا جائے۔

امریکی فوج کے انسٹرکٹرز کئی ماہ سے عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے والے فوجیوں کی تربیت اور اس سلسلے میں عراقی حکام سے مشاورت میں مصروف ہیں۔

تاہم امریکی فوجی خود تاحال دولتِ اسلامیہ کے خلاف میدانِ جنگ میں نہیں اترے ہیں۔

اس سلسلے میں حزبِ اختلاف کی جماعت ریپبلکن پارٹی کا موقف ہے کہ امریکہ کو اس سلسلے میں صرف عراقی فوج پر ہی انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر براک اوباما عراق میں مزید فوجی بھیجنے کی منظوری دینے کی تیاری میں ہیں جو دولت اسلامیہ کے خلاف برسر پیکار مقامی فوجوں کو تربیت فراہم کریں گے

ایش کارٹر کے بیان کے بعد آرمڈ سروسز کمیٹی کے ریپبلکن سربراہ سینیٹر میک تھورن بیری کا کہنا تھا کہ یہ احساس موجود ہے کہ ہم ایک مشکل وقت میں جی رہے ہیں اور اس سلسلے میں امریکی پالیسی اور حکمتِ عملی ناکافی ہے۔

ایش کارٹر کے علاوہ امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے سربراہ جنرل مارٹن ڈیمپسی نے بھی کمیٹی کو عراق اور شام کے بارے میں بریفنگ دی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں یہ مشورہ نہیں دوں گا کہ ہم امریکی افواج کو مقامی فوج کو مضبوط بنانے کے لیے خطرے میں ڈالیں۔‘

جنرل ڈیمپسی نے کہا کہ ’اگر وہ اپنے طرزِ زندگی کو داعش سے لاحق خطرے کو دیکھ کر کھڑے نہیں ہو رہے تو ہم انھیں کھڑا کرنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔‘

یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکی حکام نے دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں عراقی حکومت کے عزم پر سوال اٹھایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی تربیت کار کسے تربیت دیں جب ہمارے پاس کافی تعداد میں نئے فوجی ہی نہ ہوں: ایش کارٹر

دو ماہ قبل رمادی پر دولتِ اسلامیہ کے قبضے کے بعد بھی وزیرِ دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا تھا کہ رمادی میں عراق افواج کی شکست ظاہر کرتی ہے کہان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑنے کے عزم کی کمی ہے۔

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار علیم مقبول کا کہنا ہے کہ اوباما انتظامیہ پر حالیہ چند ماہ میں متعدد بار عراق میں کسی مربوط حکمتِ عملی کی عدم موجودگی کا الزام لگ چکا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق سینیٹ کی کمیٹی کی سماعت کے دوران وزیرِ دفاع ایش کارٹر اور جنرل مارٹن ڈیمپسی سے بھی مستقبل کی حکمتِ عملی کے بارے میں سوالات کیے گئے تو ان کا جواب یہی تھا کہ امریکہ اس وقت صرف ایک امدادی کا کردار نبھا رہا ہے اور یہ دراصل عراقی حکومت کا ہی کام ہے کہ وہ خود کو اس مشکل سے نکالے۔

اسی بارے میں