’دولتِ اسلامیہ دنیا کے سامنے آنے والا سب سے بڑا خطرہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’ برطانیہ میں نوجوان پُرتشدد انتہا پسندی کی طرف جانے کے خطرے سے دوچار ہیں‘

برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے ایسے لوگوں سے خبردار رہنے کے لیے کہا ہے جو دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے انتہا پسند نظریات کی چپکے چپکے منظوری دیتے ہیں۔

سلواکیہ میں سکیورٹی سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ کیمرون نے انتہا پسندی کو جڑ سے پکڑنے کی اہمیت پر زور دیا۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے ایسی انتہا پسندی کو روکنے کے لیے خاندانوں اور کمیونٹی کے کردار کی اہمیت اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

دولتِ اسلامیہ کو کون شکست دے گا؟

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟ ویڈیو رپورٹ

ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب اطلاعات ہیں کہ برطانیہ کا ایک خاندان شام چلا گیا ہے۔دولتِ اسلامیہ کے ایک سمگلر نے بی بی سی کو بتایا کہ بریڈفورڈ کی تینوں بہنیں خدیجہ، صغریٰ اور زہرہ داوؤ اپنے نو بچوں کے ہمراہ اس ہفتے کے شروع میں شام چلی گئیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ ’دنیا کے سامنے آنے والا سب سے بڑا خطرہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پولیس اور خفیہ اداراوں کو لوگوں کے کہیں جانے کے فیصلے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ حالیہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ برطانیہ میں نوجوان پُرتشدد انتہا پسندی کی طرف جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا ’ان کا مقصد نظریے پر مبنی ہے۔ یہ اسلامی انتہاپسندی کا نظریہ ہے۔ ایسا نظریہ جو کہتا ہے کہ مغرب برا ہے، جمہوریت غلط ہے، عورتیں (مردوں سے) کمتر ہیں اور ہم جنس پرستی شر ہے۔‘

’یہ نظریہ اپنی حمایت میں اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے تشدد کا جواز فراہم کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ لوگ اس خیال تک کیسے پہنچتے ہیں؟‘

برطانوی وزیرِاعظم کا کہنا تھاکہ ایک وجہ مسلمان کمیونٹی کے ارکان ہیں جو ’تشدد کی حمایت تو نہیں کرتے لیکن اس طرح کے کچھ تعصبات کے گاہک ضرور بن جاتے ہیں۔ لہذٰا اس سے نوجوانوں کو راہ مل جاتی ہے کہ وہ ابلتے ہوئے تعصبات کو قتل کے ارادے میں تبدیل کر لیں۔ وہ اپنے جذبات کو آگ لگانے والے مقرروں کو آن لائن سنتے ہیں، جہاز پکڑ کر استنبول چلے جاتے ہیں اور پھر مزید سفر کر کے جہادیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔‘

ڈیوڈ کیمرون نے تسلیم کیا کہ انتہا پسندی کےعوامل اور بھی ہیں ’جن میں قومی شناخت کا سوال بھی ہے اور یہ بھی کہ ہم یقینی بنائیں کہ ہمارے نوجوان خود کو اس ملک کا حصہ سمجھیں۔‘

شام اور عراق کا سفر کرنے والوں کے اہلِ خانہ، جن میں گلاسگو کی 20 سالہ اقصیٰ محمود کے والدین بھی شامل ہیں، کہتے ہیں کہ آن لائن پر تربیت ان کے بچوں کے شام جانے کی وجہ بنی ہے۔

لیکن طلحہ اسمل کے دوستوں سمیت کچھ دیگر افراد کا خیال ہے کہ آن لائن تربیت کو ذمہ دار ٹھہرانا واحد وجہ نہیں اور نہ یہ حالات پر ٹھیک اترتی ہے۔

سابق وزیر اور حکمراں جماعت کی رکن بیرنس وارثی نے حکومت پر الزام لگایا ہےکہ اس نے اور سابقہ لیبر حکومت نے ان مسائل سے خود کو دور رکھا۔

جنوب مشرقی بولٹن سے لیبر کی رکنِ پارلیمان یاسمین قریشی کا کہنا تھا کہ مسلمان انتہا پسندوں کے اقدام پر مستقل معافیاں مانگتے مانگتے تھک گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دولتِ اسلامیہ نے عراق اور شام کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے

’یہ بہت تکلیف دہ لگتا ہے۔ چارلسٹن میں ایک سفید فام نے گرجا گھر میں نو سیاہ فام عبادت گزاروں کو ہلاک کر دیا لیکن میں نے نہیں سنا کہ کسی نے کہا ہو کہ پوری کی پوری سفید فام آبادی ایک سفید فام کے اقدام پر معافی مانگے۔‘

اسلامک ہیومن رائٹس کمیشن کے مسعود کا کہنا تھا ’یہ اشارہ کہ مسئلے کا حل اسلام کے نظریے سے نمٹنا ہے، گمراہی ہے اور خطرناک ہے۔ حکومت نے طویل عرصے سے دولتِ اسلامیہ جیسے وحشی گروپوں کو نہ صرف مسلمانوں سے بلکہ اسلام کے نظریے سے منسلک رکھا ہے جیسے یہ ایک دوسرے سے بندھے ہیں۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔‘

تاہم ماضی میں انتہا پسندوں کو بھرتی کرنے والے ابو منتصر ڈیوڈ کمیرون سے متفق ہیں کہ نوجوانوں کو انتہاپسند بننے سے روکنے میں خاندان کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

آئی ٹی وی کے پروگرام ’گڈ مارننگ برٹن‘ میں انھوں نے کہا ’اس میں کوئی شک نہیں کہ تربیت کی جاتی ہے ۔ میں جانتا ہوں کہ ہم کس طرح کئی حقائق کو نظر انداز کرکے لوگوں کو اپنا ہمنوا بنایا کرتے تھے۔ اس میں حقیقت بھی نظر انداز ہوتی تھی اور مسلمانوں اور مسلمانوں کی تعلیمات میں متبادل نقطۂ نظر بھی نظر انداز کیا جاتا تھا۔‘

اسی بارے میں