چارلسٹن کا مشتبہ حملہ آور گرفتار، اسلحے کے حق پر دوبارہ بحث

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption چارلسٹن کے کئی گرجا گھروں میں ہلاک شدگان کے لیے منعقد ہونے والی دعائیہ تقریب میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے

امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا میں افریقی نژاد امریکیوں کے گرجا گھر پر ایک سفید فام حملہ آور کی فائرنگ سے چھ خواتین سمیت نو افراد کی ہلاکت کے بعد ملک میں اسلحے تک رسائی کے معاملے پر دوبارہ بحث چھڑ گئی ہے۔

ادھر ملک کی مختلف ریاستوں میں ہلاک شدگان کے لیے دعائیہ تقاریب منعقد کی گئی ہیں۔

چارلسٹن کے سیاہ فاموں کو ڈرنا چاہیے تھا۔۔۔

فائرنگ کا یہ واقعہ چارلسٹن نامی شہر میں واقع تاریخی گرجا گھر ایمینوئل افریقن میتھوڈسٹ چرچ میں پیش آیا تھا اور پولیس نے اب اس واقعے میں ملوث 21 سالہ حملہ آور ڈِلن روف کو گرفتار کر لیا ہے۔

لیکسنگٹن نامی علاقے کے رہائشی ڈِلن کو واقعے کے کئی گھنٹے بعد شمالی کیرولائنا کے علاقے شیلبی میں ایک مقامی گل فروش کی اطلاع پر گرفتار کیا گیا تاہم اب انھیں واپس چارلسٹن منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے نفرت پر مبنی اس جرم کی تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مشتبہ حملہ آور فائرنگ کرنے سے پہلے ایک گھنٹے تک چرچ کے اندر بیٹھا رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی کیرولائنا میں شیلبی کے علاقے سے گرفتاری کے بعد ڈِلن روف کو چارلسٹن منتقل کر دیا گیا ہے

پولیس کو ملنے والی ویڈیو فوٹیج میں مشتبہ حملہ آور کو چرچ کے اندر بیٹھے اور پھر ایک چار دروازوں والی بڑی کار میں وہاں سے روانہ ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ادھر آئندہ صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی کے حصول کے لیے مضبوط امیدوار اور سابق وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ کو نسل، اسلحے اور تشدد کے معاملات میں ’سخت سچائیوں‘ کا سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔

جمعرات کو ایک انتخابی جلسے سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’آنے والے دنوں میں ہم ایک بار پھر یہ سوال اٹھائیں گے کہ اس المناک واقعے کی وجہ کیا بنی اور ہمیں بطور قوم کیا کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ہمیں دیانتداری سے کام لینا ہوگا۔ ہمیں نسل، تشدد، اسلحے اور تقسیم کے بارے میں سخت سچائیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔‘

امریکی صدر براک اوباما نے بھی ملک میں اسلحہ رکھنے کے حق کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی برادریاں پہلے بھی افسوسناک واقعات کا سامنا کر چکی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ کو کسی موقعے پر اس مسئلے کو اس حقیقت کے ساتھ نمٹنا ہو گا کہ قتل عام کے واقعات اس تواتر کے ساتھ دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں کیوں پیش نہیں آتے۔

براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اور ان کی اہلیہ ایمینوئل افریقن میتھوڈسٹ چرچ کے پادری سمیت کئی ارکان کو جانتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ چارلسٹن کی تاریخ میں یہ گرجا گھر ’مقدس مقام‘ رہا ہے اور وہ پرامید ہیں کہ چرچ میں عبادت کے لیے جمع ہونے والے افراد اور برادری دوبارہ کامیابی سے اٹھ کھڑی ہو گی۔

چارلسٹن کا ایمینوئل افریقن میتھوڈسٹ چرچ افریقی نژاد امریکی مسیحیوں کی امریکہ میں موجود قدیم ترین عبادت گاہوں میں سے ایک ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق وہاں فائرنگ مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے کے قریب اس وقت کی گئی جب گرجا گھر میں لوگ عبادت کے لیے جمع تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

چارلسٹن پولیس کے سربراہ گریگری ملن نے کہا ہے کہ ہلاک شدگان میں سے آٹھ کو چرچ کے اندر فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا جبکہ ایک شخص کچھ دیر بعد ہسپتال میں دم توڑ گیا۔

دعائیہ تقاریب

جمعرات کی شب چارلسٹن کے کئی گرجا گھروں میں ہلاک شدگان کے لیے منعقد ہونے والی دعائیہ تقریب میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔

سخت گرم موسم کے باوجود سینکڑوں افراد حملے کا نشانہ بننے والے چرچ کے باہر بھی جمع ہوئے۔ موقعے پر موجود ایک خاتون مارتھا واٹسن کا کہنا تھا کہ ’ہمیں نسل پرستی سے پاک مہذب زندگی گزارنے کے لیے اب مل کر یہ جنگ لڑنی ہو گی۔‘

چارلسٹن کے علاوہ نیویارک، میامی، ڈیٹروئٹ اور فلاڈیلفیا سمیت امریکہ کے دیگر شہروں میں بھی دعائیہ تقاریب اور مظاہروں کا اہتمام کیا گیا۔

نیویارک میں مظاہروں کے شرکا نے جو پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے ان پر ’سیاہ فاموں کی زندگی بھی اہم ہے‘ اور ’سیاہ فاموں کو مارنا بند کرو‘ جیسے نعرے درج تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں