امریکہ اسرائیل کے لیے کھڑا رہے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ج کل امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات پر برا وقت آیا ہوا ہے۔

کسی حد تک اس کی وجہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور صدر باراک اوباما کے درمیان ذاتی سطح پر دوستی کی کمی ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان کئی اہم امور پر اختلافات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اسرائیل میں انتخابی مہم کے دوران مسٹر نیتن یاہو کا امریکی کانگریس کی جانب سے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خصوصی خطاب کے لیے امریکہ جانا بھی دونوں ممالک کے خراب تعلقات میں کسی بہتری کی نوید نہیں لایا۔

بلکہ ہوا یہ کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے خطاب کو مسٹر اوباما کی ایران کے ساتھ جوہری معاملے پر تصفیے کی کوششوں کے خلاف امریکی نمائندگان پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا۔

اور سونے پر سوھاگہ یہ کہ اس اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات اتنے ہی جاں بلب ہیں جتنے گذشتہ برسوں سے چلے آ رہے ہیں۔

اِسی ماہ صدر اوباما نے ایک اسرائیلی ٹی وی چینل کو انٹریو بھی دیا جس میں انھوں نے بہت کچھ کہا۔ صدر اوباما کے لیے یہ انٹرویو اسرائیلی عوام سے براہراست بات کرنے یا انھیں یقین دلانے کا ایک اچھا موقع تھا کہ وہ بنیادی طور پر ایک یہودی ریاست کے حامی ہیں۔ انھوں نے ایسا ہی کیا لیکن اپنے انٹرویو میں انھوں نے اسرائیل کو خبردار بھی کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

صدر اوباما کا استدلال یہ تھا کہ اگر اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان صورتحال ’ جوں کی توں‘ ہی رہتی ہے تو فلسطینی بیزار ہو کر اسرائیل کو مجبور کر سکتے ہیں وہ ’یہودی ریاست کے خد وخال اور اس کے کردار‘ کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرے۔

صدر اوباما کے بقول اگر ایسا ہوتا ہے تو اسرائیل کو اپنی ان اقدار سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں جو اسے بہت عزیز ہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے صدر اوباما کا مزید کہنا تھا کہ اگر فلسطینی باہمی امن کے عمل کی سست روی سے چِڑ جاتے ہیں اس کے اثرات اسرائیل کو سفارتی سطح پر بھی برداشت کرنے پڑ سکتے ہیں۔

’اگر امن کی جانب کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو اس کے اثرات اس بات پر بھی ہو سکتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر ہم اسرائیلی ریاست سے کیا مراد لیں گے‘ اور اسے فلسطین کے مسئلے سے کیسے الگ کیا جائے گا۔

ان ڈھکے چُھپے اشاروں کے بعد صدر اوباما نے اپنے انٹرویو میں کئی واضح اشارے بھی دیے اور کہا کہ اگر یورپی ممالک مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کوئی قرارداد لے کر آتے ہیں تو ہو سکتا ہے امریکہ اس قرار کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ لائے۔

’دراڑ‘ پیدا ہو چکی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اس پس منظر میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات حقیقتاً کس قدر خراب ہو چکے ہیں؟

مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے سابق مذاکرات کار ایرن ڈیوڈ مِلر نے مجھ سے کہا کہ ’مجھے نصف درجن وزراء خارجہ کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ ہے لیکن امریکی کانگریس میں مسٹر نتن یاہو کے خطاب نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جو دراڑ پیدا کر دی ہے اور جس طرح اب اسرائیل پر کھلے عام تنقید کا میدان کھُل گیا اس کی مثال میری نظر سے کبھی پہلے نہیں گزری۔‘

’میں نے پہلے کبھی ایسا ہوتے نہیں دیکھا اور میرا خیال ہے کہ یہ (دونوں ملکوں کے تعلقات) کے لیے خاصا نقصان دہ ہے۔‘

اسی طرح اسرائیل اور امریکہ کی یہودی برادری کے مسائل کے ماہر کالم نگار جے جے گولڈبرگ نے مجھے بتایا کہ ’ اوباما انتظامیہ کے بارے میں اسرائیل کے حکومتی حلقوں اور امریکہ کے اندر اسرائیل کے قریبی دوستوں میں جتنے شکوک پائے جاتے ہیں وہ اتنے گہرے ہیں کہ آپ اس کا اندازہ نہیں کر سکتے۔‘

’وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ شک اور بداعتمادی کے ان جذبات کے اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے امریکی انتظامیہ اور اس کے حامیوں کو مایوسی اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسرائیل کی جانب سے ان پر جتنی شدید تنقید کی گئی ہے وہ حقارت اور بے عزتی سے کم نہیں۔‘

تاہم جے جے گولڈبرگ کا کہنا تھا کہ اس قدر شدید تنقید کے باوجود بھی ’ امریکہ کے حکومتی اور سیاسی رہنماؤں کے حلقوں میں اسرائیل کے لیے پائے جانے والے ہمدردی کے دیرینہ جذبات کو زک نہیں پہنچی ہے۔‘

اسرائیل کی جانب امریکہ پالیسی میں یہ وہی چیز ہے جسے پروفیسر شائی فیلڈمین امریکی انتظامیہ کی ’پراگندہ ذہنی‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔

پروفیسر شائی فیلڈمین کے بقول ’دونوں ممالک کے درمیا واضح اختلافات کے باوجود اسرائیل کے لیے امریکہ کی مسلسل فوجی مدد کی وجہ یہ ہے کہ صدر اوباما واقعی اسرائیل کی سکیورٹی اور اس کی سلامتی کے شدید خواہاں ہیں۔ ان کی یہ پالیسی اس حمایت کی عکاس ہے جو اسرائیل کو امریکی رائے عامہ، ملک کے اہم انتخابی حلقوں اور کانگریس میں دستیاب ہے۔‘

مختلف سمتیں

تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ بات بگڑی کہاں اور کیسے؟

مسٹر گولڈبرگ کہتے ہیں کہ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ جارج بُش کی حکومت کے آٹھ سالوں میں صدر کی انتہائی قدامت پسندانہ سوچ کی وجہ سے اسرائیل کو یہ تسلی رہی کہ امریکہ میں اسرائیل کی سلامتی کی فکر پائی جاتی ہے۔تاہم اس کے بعد دونوں ممالک میں آنے والی حکومتوں کی سمتیں ایک دوسرے سے یکسر الگ ہو گئیں۔

’نتن یاہو کی قیادت میں اسرائیل انتہائی دائیں جانب کی سیاست کرنے لگا جبکہ اوباما کی زیر قیادت امریکہ میں بائیں بازو کی سیاست کا عروج ہونے لگا۔‘

لیکن میراخیال ہے دونوں ممالک میں اختلافات کی اور وجہ بھی ہے اور وہ یہ کہ گذشتہ عرصے میں اسرائیل کا معاملہ ایک سیاسی معاملہ بن گیا ہے۔

پروفیسر فیلڈمین کے بقول ’نتن یاہو اور صدر اوباما کے درمیان تناؤ کا موازنہ اگر آپ اس گرمجوشی سے کریں جو نتن یاہو اور رپبلکن پارٹی اور امریکی کانگریس کے درمیان پائی جاتی ہے، تو آپ کو محسوس ہو گا کہ کیوں اسرائیل پہلی مرتبہ امریکہ میں ایک سیاسی مسئلہ بن گیا۔ اور یہ ایک ایسی چیز ہے جو مستقبل میں امریکہ اور اسرائیل کے خصوصی تعلقات کے لیے نقصاندہ ثابت ہو سکتی ہے۔

مسٹر گولڈبرگ اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں۔

مسٹر گولڈبرگ کہتے ہیں کہ ’دائیں بازس کی سیاست میں اسرائیل کی حمایت ایک ایسی علامت بن گئی جس کی مثال ہمیں ماضی میں کہیں دکھائی نہیں دیتی۔‘

’کسی بھی ریپبلکن پارٹی کے رہنما سے بات کریں تو ٹیکس میں کمی اور اسقاط حمل کے بعد جو تسری بات اس کے منہ سے نکلتی ہے وہ اسرائیل کے بارے میں ہی ہوتی ہے۔ بعض اقوات تو وہ اسقاط حمل کی بات بھی نہیں کرتے اور سیدھا اسرائیل کی بات پر آ جاتے ہیں۔‘

دوسری جانب بائیں بازو کے سیاستدان سے بات کریں تو وہ یا تو کہتا ہے کہ اسرائیل کی حمایت ایک سر دردی ہے اور یا کھلے لفظوں میں اسرائیل کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتا ہے۔

سچ پوچھیں تو یہ بات امریکی اشرافیہ تک محدود نہیں رہی۔

پرفیسر فیلڈمین کے بقول ’اسرائیل میں دایاں بازو جس طرح زور پکڑ رہا ہے اس سے امریکہ کی یہودی برادری کو بھی نئے امتحان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بات یاد رکھا ضروری ہے کہ کچھ یہودی رہنماؤں اور کارکنوں کے برعکس امریکہ کی یہودی برادری کی اکثریت آزاد خیال یا لبرل ہے۔

اس کا اندازہ آپ یہاں سے لگا سکتے ہیں کہ صدر اوباما کے پہلے عہدِ صدارت میں مسٹر اوباما اور نتن یاہو کے درمیان کھلے ٹکراؤ کے باوجود 70 فیصد امریکی یہودیوں نے سنہ 2012 کے انتخابات میں مسٹر اوباما کے حق میں ووٹ دیے۔

ناہموار سڑک

مسٹر مِلر کہتے ہیں کہ لگتا ہے کہ مسٹر اوباما اور مسٹر نتن یاہو اب ایک دوسرے مزید جگھڑا نہیں کرنا چاہتے جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ صدر اوباما کی توجہ اس وقت ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر مرکوز ہے۔

تاہم مسٹر مِلر کا کہنا تھا کہ چونکہ امریکہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے لیے آخر کوشش کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو ایک مرتبہ پھر ایک ناہموار سڑک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

’مجھے لگتا ہے اوباما انتظامیہ اس سلسے میں کچھ نہ کچھ ضرور کرے گی۔‘

’میرا خیال ہے یہ بات ان کے خون میں شامل ہے۔ جان کیری اور صدر اوباما چاہیں گے کہ وہ اپنی مدت اقتدار ختم ہونے سے پہلے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے لیے کچھ کریں گے۔‘

’اسی لیے میں کہتا ہوں کہ صدر اوباما اور اسرائیلی وزیر اعظم کے تعلقات کے لیے آئیدہ 20 ماہ کا عرصہ خاصا مشکل ہو سکتا ہے۔‘

مسٹر گولڈبرگ کے بقول ’اگر اسرائیل غرب اردن میں ایسی پالسی جاری رکھتا ہے جس سے باقی دنیا خوش نہیں تو آخر کار امریکہ کے لیے یہ مشکل ہو جائے گا کہ وہ باقی دنیا کی پرواہ کیے بغیر اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہے۔‘

اسی بارے میں