دس چیزیں جن سے ہم گذشتہ ہفتے لاعلم تھے

تصویر کے کاپی رائٹ Science Photo Library

1۔ شہد کی مکھیاں برطانوی معیشت کی بڑھوتری میں شاہی خاندان سے زیادہ حصہ ڈالتی ہیں۔

مزید معلومات کے لیے روزنامہ ٹیلی گراف

2۔ 17ویں صدی کے برطانوی سیاستدان اور رکنِ پارلیمان اولیور کرامویل کو بظاہر ’میگنا کارٹا‘ پسند نہیں آیا تھا اور انھوں نے اسے ’میگنا فارٹا‘ کا نام دیا تھا۔

مزید معلومات کے لیے نیویارکر

3۔ زیادہ تر کینگرو ’لیفٹ ہینڈڈ‘ یا بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے ہوتے ہیں۔

مزید معلومات کے لیے کلک کریں۔

4۔امریکہ میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمند جیب بش کی ویب سائٹ کے سورس کوڈ میں ہالی وڈ کی فلم ڈائی ہارڈ کا پلاٹ پنہاں ہے۔

مزید معلومات کے لیے نیویارک ٹائمز

5۔ سورج کی روشنی حاملہ ہونے کے امکانات میں تقریباً ایک تہائی اضافہ کر سکتی ہے۔

مزید معلومات کے لیے ہفنگٹن پوسٹ

Image caption زیادہ تر کینگرو ’لیفٹ ہینڈڈ‘ ہوتے ہیں

6۔ لنگوروں کی ایک قسم بیبون کے گروہ کسی جانب سفر کے لیے سمت کا انتخاب جمہوری طریقے سے کرتے ہیں۔

مزید معلومات کے لیے لاس اینجیلس ٹائمز

7۔ 19ویں صدی میں امرا نے جنگِ واٹرلو میں مرنے والے فوجیوں کے دانت مصنوعی بتیسیوں میں استعمال کیے۔

مزید معلومات کے لیے کلک کریں

8۔ ایک نئے ریموٹ کنٹرول کی مدد سے ٹی وی چینل صرف ذہن میں سوچتے ہوئے تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔

مزید معلومات کے لیے کلک کریں

9۔ سکاٹش ٹینس کھلاڑی اینڈی مرے کو ’موک دا ویک‘ تو پسند ہے لیکن مشہور سیریز ’گیم آف تھرونز‘ نہیں۔

مزید معلومات کے لیے کلک کریں

مون جیلی فش کا کوئی بازو اگر قطع ہو جائے تو وہ بقیہ بازوؤں کو دوبارہ ترتیب دے کر انھیں متوازی بنا لیتی ہے۔

مزید معلومات کے لیے نیشنل جیوگرافک

اسی بارے میں