’انتہا پسندی میں پولیس شریک تھی‘

Image caption دو بچوں کی والدہ 30 سالہ خدیجہ داؤد، پانچ بچوں کی ماں 34 سالہ صغریٰ داؤد اور دو بچوں کی والدہ 33 سالہ زہرہ داؤد سے 9 جون کے بعد سے جب انھوں نے سعودی عرب کا شہر مدینہ چھوڑا تھا

مبینہ طور پر شام میں موجود بریڈفورڈ کی رہائشی داؤد سسٹرز کے خاندان کے وکلا نے کہا ہے کہ تینوں بہنوں کے انتہا پسند ہونے میں پولیس ’شریک تھی‘۔

وکلا نے ایک خط میں رکنِ پارلیمان کیتھ ویز سے کہا ہے کہ پولیس کے افسران نے بریڈفور کی خواتین کو ان کے بھائی سے انجام سے مکمل طور پر بے پرواہ ہو کر رابطہ کرنے دیا۔ خیال ہے کہ ان تینوں بہنوں کے ایک بھائی شام میں انتہا پسندوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔

وکلا کے مطابق ایک ماں کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی ’ظالمانہ اور جابرانہ ‘ جاسوسی سے تنگ آ کر برطانیہ چھوڑ گئی۔

تاہم مغربی یارکشائر کی پولیس نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔

اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل رس فوسٹر کے مطابق ’ہم ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں کہ پولیس گمشدہ خاندان کی خاص مقصد کے لیے مبینہ تربیت میں کسی طرح شریک تھی یا اس کا سلوک ان بہنوں کے ساتھ جابرانہ تھا۔‘

خدیجہ، صغریٰ اور زہرہ داؤد اور ان کے بچے نو جون کو گم ہوگئے تھے اور اس کے بعد دولتِ اسلامیہ کے ایک سمگلر نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ شام پہنچ گئے ہیں۔

رکنِ پارلیمان مسٹر ویز، دارالعوام کی ہوم افیئرز کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور ان کو لکھے گئے خط میں دو بہنوں کے شوہروں اختر اقبال اور محمد شعیب کی نمائندگی کرنے والے وکلا نے کہا ہے کہ جس طرح پولیس نے اس معاملے کے ساتھ نمٹا اس سے انھیں ’انتہائی مایوسی‘ ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کے شمال مشرقی یونٹ کے افسران نے تینوں بہنوں کے اپنے بھائی احمد داؤد سے رابطہ کرنے کی ’خوب حوصلہ افزائی کی اور اسے بڑھاوا دیا۔‘

خیال ہے کہ احمد داؤد انتہا پسندوں کے ساتھ مل کر شام میں لڑ رہے ہیں۔ شام کے کچھ علاقے دولتِ اسلامیہ کے کنٹرول میں ہیں۔

خط میں لکھا گیا ہے کہ ’صاف ہے کہ جس طرح پولیس نے (بہنوں کا بھائی کے ساتھ) رابطہ ہونے دیا، وہ ان خواتین کی تربیت اور انتہاپسند بننے میں شریک ہے۔‘

خط کے مطابق زہرہ داؤد نے سترہ جون کو وائس میل پر ایک پیغام میں تصدیق کی کہ وہ شام میں ہیں اور یہ کہ انھوں نے اور ان کی بہنوں نے یہ سفر ’پولیس کی جانب سے جابرانہ اور مسلسل جاسوسی کی وجہ سے کیا۔‘

وکلا کے مطابق پولیس نے ان کے مؤکلین کو اس معاملے کی اطلاع دینے سے انکار کیا اور انھیں یہ یقینی بنانے کی فکر تھی کہ ان پر یا جس طرح انھوں نے اس معاملے سے نمٹا اس پر تنقید نہ ہو۔‘

وکلا کہتے ہیں کہ وزیرِ خارجہ اور وزیرِ داخلہ کو بھی خطوط بھیجے جائیں گے جن میں پولیس کے بارے میں شکایت ہوگی۔

وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ اسے خط مل گیا ہے جس پر ’مناسب موقع اور وقت پر‘ ردِ عمل ظاہر کیا جائے گا۔

محکمے نے ایک بیان میں کہا ’ہماری ترجیح لوگوں کو ایسے مقامات کے سفر سے روکنا ہے جہاں جنگ ہو اور احتیاطی حکمتِ عملی کے ذریعے ایسے لوگوں کی شناخت ہو رہی ہے اور انھیں مدد فراہم ہو رہی ہے جوانتہا پسندی کے خطرے سے دوچار ہیں۔‘

لیبر پارٹی کے رکنِ پارلیمان مسٹر ویز نے ’میل آن سنڈے‘اخبار کو بتایا کہ وکلا کے دعوؤں پر انھیں تشویش ہے۔ ’یہ کہ نو بچوں سمیت تین عورتیں برطانیہ چھوڑ کر جنگ زدہ علاقے میں چلی جائیں ناقابلِ فہم ہے۔‘

بی بی سی کے نامہ نگار ڈینی سیوِج کہتے ہیں کہ اس خط نے ’ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جن کا پولیس کو اب جواب دینا ہوگا۔‘

اسی بارے میں