’حل کے لیےکسی معاہدے پر نہ پہنچنا پاگل پن ہو گا‘

لوئکا کاٹسیلی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کاٹسیلی کہتی ہیں کہ ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہو گا جو یونان میں غربت کو بڑھائے

یونان کے سب سے بڑے بینک کی سربراہ نے کہا ہے کہ ملک کے قرض کے بحران پر سوموار کو ہونے والے ہنگامی مذاکرات میں کسی معاہدے پر نہ پہنچنا ’پاگل پن‘ ہو گا۔

یونان کے وزیرِ اعظم الیکسس تسیپراس برسلز میں ہونے والے اجلاس میں یوروزون کے 18 دیگر رہنماؤں سے مل رہے ہیں۔

نیشنل بینک آف گریس کی سربراہ لوئکا کاٹسیلی نے بی بی سی کو بتایا کہ بینکوں میں پیسہ ختم ہونے کا کوئی فوری خطرہ نہیں ہے لیکن انھوں نے کہا کہ صورت حال سنجیدہ ہے اور کسی معاہدے کے بغیر اور بھی شدید ہو جائے گی۔

دریں اثناء یونانی کابینہ نے یورپی یونین کے اہم اجلاس سے پہلے ایک ہنگامی میٹنگ بلائی ہے۔

اطلاعات کے مطابق سنیچر کویونان کے وزیرِ اعظم الیکسس تسیپراس اور یورپی کمیشن کے صدر یان کلاڈ ینکر کی ملاقات ہوئی اور اتوار کو بھی ان کے درمیان مذاکرات متوقع ہیں۔

ایسا اس وقت ہو رہا ہے جب کوشش کی جا رہی ہیں کہ یونان ایک ارب 60 کروڑ یورو کےعالمی ادارے کے قرضے کی قسط دینے ادا کر نہ کرنے پر دیوالیہ نہ ہو جائے۔

یونان کے پاس قرض کی ادائیگی کے لیے جون کے آخر تک کا وقت ہے کہ وہ قسط نہ دینے پھر اسے کے یورو زون اور ممکنہ طور پر یورپی اتحاد سے نکالے جانے کا بھی خدشہ ہے۔

یونان، بیل آؤٹ پیکج کے لیے یورپ اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے تاکہ اس ماہ کے آخر میں آئی ایم ایف کو قسط ادا کرنے میں ڈیفالٹ نہ کر جائے۔

یونان کو قرض دینے والوں کا مطالبہ ہے کہ ایتھنز کو اسی صورت میں بیل آؤٹ پیکج دیا جائے گا جب وہ اخراجات پر مزید کٹوتیوں کا وعدہ کرے۔

لیکن یونان مزید کٹوتیاں نہیں کرنا چاہتا خاص طور سے وہ قرض دینے والوں کی یہ بات نہیں مان رہا کہ پینشن کی لاگت میں کمی لائی جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یونان کے وزیرِ اعظم الیکسس تسیپراس اور یورپی کمیشن کے صدر یان کلاڈ ینکر کے درمیان اختتام ہفتہ کو بات چیت جاری رہی

محترمہ کاٹسیلی نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ورلڈ ایٹ ون پروگرام کو بتایا کہ یورپی اتحاد کی طرف سے ’قیادت میں فقدان‘ کی وجہ سے مذاکرات کو بہت بھونڈے طریقے سے کیا گیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کوئی ایسا معاہدہ نہیں ہو سکتا جو یونان میں عدام مساوات اور غربت کو مزید گہرا کر دے۔

اس کے علاوہ انھوں نے پیشن گوئی کی کہ یونان کو یورو چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا کیونکہ ’یوروزون کا خرچ، جسے وہ بہت کم کر کے پیش کر رہے ہیں، بہت سنجیدہ ہے۔‘

یونانی حکومت، یورپی اتحاد اورعالمی مالیاتی فنڈ چار ماہ سے یونان میں ان اصلاحات کے پروگرام پر مذاکرت کر رہے ہیں جو عالمی اداروں کے بقول یونان کو رقم دینے جانے سے پہلے نافذ ہونا لازمی ہیں۔

آخری مرتبہ گذشہ سال اگست میں عالمی قرض دہندگان نے یونان کو کیش رقم دی تھی جبکہ سات ارب 20 کروڑ یورو کی آخری قسط جو عالمی مالیاتی فنڈ اور یورپی اتحاد کی طرف سے دو حصوں میں دیے جانے والے 240 ارب یورو کے معاہدے کا حصہ ہے، بہت اہم سمجھی جا رہی ہے۔

اگر یونان قرض دہندگان کے ساتھ معاہدہ نہ کر سکا تو خطرہ ہے کہ وہ ڈیفالٹ کر جائے گا۔

اس سے یونان یورو کو ترک کرنے کی طرف بڑھ جائے گا۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا ایسا ہوا تو ’سب کے لیے آفت آ جائے گی۔‘

’یہ یونان کی سماجی معیشت کے لیے بہت بڑی آفت ہوگی لیکن یہ یورپ میں مشترکہ کرنسی کے منصوبے کے اختتام کا آغاز بھی ہوگا۔‘

یونان کو بانڈ مارکیٹ سے باہر رکھا گیا ہے اور موجودہ ڈیڈ لاک کی وجہ سے ایتھنز کو اپنے قرض کی ادائیگی، سرکاری ملازمین کوتنخواہیں دینے اور پینشن دینے میں بہت مشکل ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں