دولت اسلامیہ کی نگرانی کے لیے نئی یورپی پولیس ٹیم کا قیام

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ماہرین کا کہنا ہے دولت اسلامیہ کے لیے نئی بھرتیاں براہ راست سکائپ وغیرہ پر ہوتی ہیں

پورے یورپ پر مبنی ایک پولیس ٹیم بنائی جا رہی ہے جو دولت اسلامیہ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا پتہ چلائے گی اور انھیں بلاک کرے گي۔

امریکہ میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ صرف ٹوئٹر پر اس شدت پسند گروپ سے منسلک 46 ہزار اکاؤنٹس ہیں جن میں سے بعض دولت اسلامیہ کے لیے نئے افراد کی شمولیت میں تعاون کرتے ہیں۔

یوروپین پولیس ایجنسی یوروپول اب ایک بےنام سوشل میڈیا کمپنی کے ساتھ مل کر ان اکاؤنٹس کا پتہ چلانے کے لیے کام کرے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ کسی نئے اکاؤنٹ کے بنائے جانے کے دو گھنٹے کے اندر اسے بند کرنے کا ان کا ہدف ہے۔

یوروپول کا کہنا ہے کہ یوروپ کے تقریباً پانچ ہزار شہریوں نے ان علاقوں کا سفر کیا ہے جو دولت اسلامیہ کے قبضے میں ہیں اور ان میں برطانیہ، فرانس، بیلجیئم، ہالینڈ کے شہری شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خدیجہ سلطانہ(16)، امیرا عباسی (15)، اور شمیمہ بیگم (15سال) کو مبینہ طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے بھرتی کیا گيا تھا

یوروپول کے ڈائرکٹر روب وینرائٹ نے برطانوی اخبار دی گارڈیئن کو بتایا نئی ٹیم آئندہ ماہ یکم جولائی سے اپنا کام شروع کرے گي اور ان کا کام ’آن لائن سرغنہ کی نشاندہی‘ کرنا ہوگا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ سے منسلک سوشل میڈیا کے اکاؤنٹس کا پتہ چلانا اپنے آپ میں بہت بڑا کام ہے۔

واشنگٹن میں بروکلنگ انسٹی ٹیوشن کے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ دولت اسلامیہ سے منسلک ٹوئٹر اکاؤنٹس 90 ہزار تک ہو سکتے ہیں۔

فروری میں تین نوجوان لڑکیاں جو لندن کے ایک ہی سکول میں زیر تعلیم تھیں انھوں نے پہلے ترکی کا رخ کیا پھر وہاں سے شام چلی گئیں۔

بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے ایک شمیمہ بیگم دولت اسلامیہ کے کسی جنگجو کی اہلیہ کے ساتھ ٹوئٹر پر رابطے میں تھیں۔

ان کے خاندان کے لیے کام کرنے والے وکیل نے بتایا کہ پولیس تمام پیغامات کی نگرانی کر رہی تھی اور اسے ان لوگوں کے گھر چھوڑنے سے پہلے حرکت میں آنا چاہیے تھا۔

کیا دولت اسلامیہ کے حامیوں کو مین سٹریم سوشل نٹورک سے نکال باہر کیا جا رہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ماہرین کا خیال ہے کہ جہادی گروپ کے لیے ٹوئٹر انتہائی اہم ہے

جہادی گروپوں کے ماہر اور واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں فیلو ایرون زیلن کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر کو عام طور پر ممکنہ نئی بھرتیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن براہ راست نہیں۔

انھوں نے کہا کہ زیادہ کھلے طور پر بھرتی کے سلسلے میں سکائپ، واٹس ایپ اور کک پر باتیں ہوتی ہیں۔

جہادی اکاؤنٹس کی نگرانی کرنے والے گروپ سائٹ کی ایک ڈائرکٹر ریٹا کیٹز کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو ہمیشہ آن لائن پر سوشل میڈیا پر بلاک ہونے سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں فخریہ بیان جاری کیا کرتے ہیں۔

اپریل میں لکھے جانے والے ایک مضمون میں ریٹا کیٹز نے سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے بہتر سکیورٹی انتظامات پر زور دیا اور صرف اکاؤنٹس کے روکے جانے کو ناکافی بتایا۔

انھوں نے لکھا: ’اندھیرے میں تیر چلانا بند کریں اور ٹوئٹر پر دولت اسلامیہ اور ان کے حامیوں کو پہچانیں۔ وہ پرعزم ہیں اور خطرناک حد تک ڈھلنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ وہ ٹویٹ کرنا پسند کرتے ہیں لیکن ٹوئٹر بذات خود ان کے فروغ اور وجود کا اہم ذریعہ ہے۔‘

اسی بارے میں