مشہور کامیڈین کو مرتد قرار دینے پر سعودی امام کی معافی

تصویر کے کاپی رائٹ getty
Image caption کئی سال پہلے ایک خاکے میں القصابی نے سعودی مردوں کے بیک وقت چار بیویاں رکھنے کے مسئلے کو پلٹ کر یوں دکھایا کہ ایک عورت کے چار شوہر ہیں اور وہ ان میں سے ایک سے خلع چاہتی ہے تاکہ پانچویں شادی کر سکے

سعودی عرب میں ایک امام نے ایک مشہور سعودی کامیڈین کو جوشیلے مولویوں کا مذاق اڑانے کی وجہ سے مرتد قرار دینے پر معافی مانگ لی ہے۔

سعودی عرب کی وزارتِ اسلامی امور نے رمضان کے دوران ٹی وی شو کی وجہ سےکامیڈین ناصر القصابی کی مذمت کرنے پر امام سعید الفرویٰ کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ٹی وی شو میں ناصر القصابی نے سعودی اماموں کو موسیقی کے آلات توڑتے ہوئے دکھایا تھا اور ان کو طنز کا نشانہ بنایا تھا۔

دولتِ اسلامیہ کے حامیوں نے بھی القصابی کو ایک علیحدہ ٹی وی شو کے بعد موت کی دھمکیاں دی ہیں جس میں انھوں نے جہادیوں کا مذاق اڑایا تھا۔

القصابی ٹیلیویژن کی ایک معروف شخصیت ہیں اور کئی برس سے مشرق وسطیٰ میں کامیڈین کے طور پر مشہور ہیں اور کسی سعودی شہری کے لیے یہ انہونی بات ہے۔ اپنے مقبول ترین پرواگرام ’تش ما تش‘ میں انھوں نے سعودی عرب اور باہر کے عرب معاشرے کے کئی شجر ہائے ممنوعہ پر طنز کیا ہے۔

کئی سال پہلے ایک خاکے میں القصابی نے سعودی مردوں کے بیک وقت چار بیویاں رکھنے کے مسئلے کو پلٹ کر یوں دکھایا کہ ایک عورت کے چار شوہر ہیں اور وہ ان میں سے ایک سے خلع چاہتی ہے تاکہ پانچویں شادی کر سکے۔

سعودی عرب میں قدامت پسند عناصر نے اس شو کو توہین سے تعبیر کرتے ہوئے اس پر شدید تنقید کی تھی۔

القصابی ٹیلنٹ شو میں جج بننےکی وجہ سے بھی شہرت کے حامل ہیں اور ان کی تازہ ترین سیریز ’سیلفی‘ ماہِ رمضان کی ابتدا میں ہی بہت مقبول ہوگئی ہے۔

ایک شو میں انھوں نے ایک قدامت پرست مبلغ کا کردار ادا کیا جو رمضان کے مبارک مہینے میں موسیقی سے لطف اندوز ہونے پر مسلمانوں سے سخت نالاں ہے۔

ایسے شوز کے بعد سعودی عرب کے ایک مبلغ سعید الفرویٰ نے القصابی پر مرتد ہو جانے کا الزام لگایا جبکہ دیگر اماموں نے بھی ایسے ہی الزامات لگائے۔

لیکن ان اماموں کے غصے پر اسلامی امور کی وزارت نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ الفرویٰ کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے جنھوں نے اب ٹوئٹر پر القصابی کے بارے میں اپنے جملوں پر معافی مانگ لی ہے۔

سعودی صحافی خالد المعینیٰ نے القصابی کی حمایت میں لکھتے ہوئے کہا: ’بہت دیر سے ہم خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ہم نے ان اماموں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ نفرت اور جھوٹ پھیلاتے رہیں۔‘

القصابی ایسے حملوں کے عادی ہیں لیکن ان کی تازہ ترین سیریز نے شاید زیادہ خطرناک دشمنوں کی توجہ ان کی طرف کر دی ہے۔

ان کے ایک شو میں دولتِ اسلامیہ طنز کی زد میں ہے۔ القصابی ایک ایسے والد کا کردار کر رہے ہیں جو دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے جانے والے اپنے بیٹے کی تلاش میں شام جاتا ہے۔

اس شو کا بہت زیادہ اثر ہوا ہے اور لوگ نہ صرف اس کے مزاحیہ پہلو سے متاثر ہوئے ہیں بلکہ جس بہادری سے یہ شو پیش کیا گیا ہے اس نے بھی اثر ڈالا ہے۔ مگر دولتِ اسلامیہ کے حمایتیوں نے سوشل میڈیا پر اس پر سخت ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ ان میں سے کچھ نے کہا ہے کہ القصابی کو مار ڈالا جائے۔

القصابی نے جواب میں کہا ہے کہ ایک فنکار کا فرض ہے کہ وہ سچ کو آشکار کرے خواہ اسے اس کام کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔

اسی بارے میں