احتیاط پسند اوباما کی بدلتی زبان

تصویر کے کاپی رائٹ PETE SOUZA
Image caption اس ہفتے ایک ریڈیو انٹرویو میں صدر اوباما نے امریکہ میں غلامی اور نسلی تقسیم کے حوالے سے جو الفاظ استعمال کیے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان معاملات پر اوباما کتنے بدلحاظ ہو سکتے ہیں

جب بھی نسل کی بات آئی ہے صدر اوباما ہمیشہ اس معاملے پر کم گو ہی رہے اور انھوں نے یہ معاملہ دوسروں پر چھوڑے رکھا ہے کہ لوگ ان کی صدارت کے ’نسلی‘ عنصر کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔

اسی لیے چارلسٹن کے چرچ میں سیاہ فام افراد کی موت ہو یا فرگوسن میں نسلی فسادات جیسا کوئی معاملہ، صدر اوباما عوامی سطح پر عموماً بڑے نپے تلے اور محتاط الفاظ کا انتخاب ہی کرتے رہے ہیں۔ صدر اوباما کے اسی غیر جذباتی انداز کی وجہ سے ان کی حکمت عملی کو ’نو ڈراما اوباما‘ کہا جاتا ہے یعنی اوباما کوئی ڈراما نہیں کرتے۔

وائٹ ہاؤس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سالانہ عشائیے میں بھی انھوں نے اپنے جذباتی الفاظ کا ٹھیکہ مشہور مزاحیہ اداکار کیگن مائیکل کو دے رکھا تھا جو ان کی تقریر کے ایک ’غصیلے ترجمان‘ کا کردار ادا کر رہے تھے۔

کیگن مائیکل اور ان کے مزاحیہ ساتھی اداکار جورڈن پیل صدر اوباما کے پہلے عہدۂ صدارت میں بھی یہ کردار ادا کرتے ہیں اور صدر کی تقریر کا ترجمہ بڑے عوامی انداز میں کرتے رہے ہیں۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو اس ہفتے ایک ریڈیو انٹرویو میں صدر اوباما نے امریکہ میں غلامی اور نسلی تقسیم کے بارے میں جو الفاظ استعمال کیے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان معاملات پر اوباما کتنے بدلحاظ ہو سکتے ہیں۔

اوباما کا کہنا تھا کہ ’نسلی امتیاز وہ بیماری ہے جس سے ہم چھٹکارا حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ اور بات صرف یہ نہیں کہ ہم کُھلے عام لفظ ’نِگر‘ (حبشی) استعمال کرنے کو برا سمجھتے ہیں۔‘

ایک ایسا صدر جو اپنا ایک ایک لفظ چن کے بولتا ہو، یہ پہلا موقع تھا کہ اس نے ریڈیو پر کچھ ایسی باتیں کر دیں جو کئی لوگوں پر بجلی کی طرح گریں۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوباما اپنی صدارت کے آخری دور میں داخل ہو رہے ہیں کیونکہ اب وہ نہ صرف بہت کھُل کے باتیں کر رہے ہیں بلکہ وہ جھنجھلائے ہوئے بھی نظر آتے ہیں، شاید اس بات پر جھنجھلائے ہوئے کہ وہ اپنے دورِ صدارت میں کچھ چیزوں کو تبدیل نہیں کر سکے۔

اوباما کی پریشانی قابل فہم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس میں کوئی شک نہیں کہ اوباما اب زیادہ کھل کر بات کر رہے ہیں لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انھوں نے احتیاط کا دامن چھوڑ دیا ہے

کہا جاتا تھا کہ ان کی صدارت کے اختتام تک امریکہ میں ایک ایسے دور کا آغاز ہو چکا ہوگا جب نسل پرستی ایک قصہ پارینہ بن چکی ہو گی، لیکن اب یہ بات کسی لطیفے سے کم نہیں لگتی۔

اوباما کبھی نہیں چاہتے تھے کے ان کی رنگت ان کی صدارت کی علامت بنے۔ ایک سیاہ فام صدر کی شبیہ سے بچنے کے لیے اوباما کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ وہ غصے اور بیزاری سے پرہیز کریں۔

صدر اوباما کے گذشتہ ہفتے کے انٹریو کے بارے میں روزنامہ نیویارکر کے ایڈیٹر ڈیوڈ رِمنِک کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جو ہمیں اوباما اور امریکی معاشرے کے بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے۔

ڈیوڈ رِمنِک کے بقول: ’ایک مرتبہ صدر اوباما نے اپنے دفتر میں انٹرویو دینے کے بعد مجھ سے کہا کہ نسل پرستی کے حوالے سے میرے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وہ ہچکچا رہے تھے یا نہایت محتاط تھے۔ اوباما کا کہنا تھا کہ اگر غلطی سے بھی ان کے منہ سے ’مالیاتی پالیسی‘ جیسا لفظ نکل جاتا ہے تو اس کے اثرات پوری سٹاک مارکیٹ پر پڑ سکتے ہیں، بالکل اسی طرح اگر وہ نسل کے حوالے سے کوئی سخت لفظ کہہ دیں تو ملک کا سیاسی درجۂ حرارت بگڑ سکتا ہے۔‘

اوباما کی صدارت کے سارے دور میں ایسی تقریریں بہت کم ہیں جن کا موضوع نسل تھا۔ اسی طرح انھوں نے شاذ و نادر ہی کوئی ایسی بات کی ہے جس میں نسل کے حوالے سے ان کے ذاتی تجربات کا کوئی ذکر ہو۔

تاہم سنہ 2012 میں جب ایک باوردی خدائی خدمت گار کے ہاتھوں سیا فام نوجوان ٹریوون مارٹن کی موت واقع ہوئی تو صدر اوباما نے جو الفاظ استعمال کیے ان میں ان کے ذاتی جذبات بھی شامل تھے۔

تب صدر اوباما نے کہا تھا کہ ’اگر میرا کوئی بیٹا ہوتا تو وہ ٹریوون مارٹن کی طرح لگتا۔‘

لیکن اس وقت بھی صدر اوباما نے اس فقرے سے زیادہ کچھ نہیں کہا تھا۔

حتیٰ کہ جب سنہ 2008 میں انھوں نے نسل کے حوالے سے فلیڈیلفیا میں خطاب کیا تھا تو تب بھی اوباما نے اپنے سیاہ فام پس منظر کو اتنا ہی اجاگر کیا تھا جتنا اپنے سفید فام پس منظر کو کیا تھا۔ ان کے بقول یہ حقیقت ہے کہ ان کی والدہ امریکی ریاست کینسس کی رہنے والی تھیں جبکہ ان کے والد کینیا سے آئے تھے۔ لگتا تھا کہ صدر اوباما اپنے سیاہ فام پس منظر کو اجاگر کرتے کرتے رک گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption شاہد وہ وقت ابھی دور ہے جب اوباما نسل پرستی پر ایک ایسی تقریر کریں گے جو ہمیں ماضی کے صدور کی مشہور تقاریر کی یاد دلا دے

اس حکمت عملی کا مظاہرہ اوباما نے سنہ 2008 میں بھی کیا تھا جب انھیں ڈیموکریٹک پارٹی کا صدارتی امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔ حس اتفاق دیکھیے کہ یہ وہی دن تھا جب 45 سال قبل اسی دن مارٹن لوتھر کنگ نے اپنی تاریخ تقریر کی تھی۔ ’آئی ہیو اے ڈریم‘ میرا ایک خواب ہے۔۔۔

اُس رات بھی جب اوباما ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے تو انھوں نے ’اٹلانٹا کے ایک مبلغ‘ کے علامتی الفاظ پر ہی اکتفا کیا تھا۔

اس کے برعکس گذشتہ چند ماہ سے اوباما کی باتوں میں واضح فرق دیکھنے میں آیا ہے اور وہ نسل کے موضوع پر بات کرتے ہوئے قدرے کھُل کے بات کرنا شروع ہو گئے۔

فرگوسن میں نسلی تصادم کے بعد اوباما نے کہا تھا کہ ’یہ کہنا غلط ہوگا کہ جب 50 سال پہلے پولیس نے سیاہ فاموں کو نہایت بے رحمی سے پیٹا تھا اور آج کے امریکہ میں کوئی فرق نہیں۔‘

نہ صرف یہ بلکہ اوباما کا کہنا تھا کہ ’ یہ کہنا غلط ہے کہ فرگوسن کا واقعہ اپنی نوعیت کا اکیلا واقعہ ہے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ امریکہ میں نسل پرستی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔‘

اس میں کوئی شک نہیں کہ اوباما اب زیادہ کھل کر بات کر رہے ہیں لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انھوں نے احتیاط کا دامن چھوڑ دیا ہے۔

ریڈیو پروگرام میں بات کرتے ہوئے اگرچہ انھوں نے نِگر کا لفظ تو استعمال کیا لیکن اس موضوع پر صرف چند جملے ہی بولے۔

شاہد وہ وقت ابھی دور ہے جب اوباما نسل پرستی پر ایک ایسی تقریر کریں گے جو ہمیں ماضی کے صدور کی مشہور تقاریر کی یاد دلا دے جیسا کہ جون 1963 میں صدر کینیڈی کی تقریر یا سیلما کی تحریک کے بعد کانگریس میں صدر لِنڈن جانسن کی تقریر۔

اسی بارے میں