’فرانسیسی صدور کی جاسوسی‘، امریکی سفیر کی طلبی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption این ایس اے نے جن فرانسیسی صدور کی جاسوسی کی ان میں موجودہ صدر فرانسوا اولاند کے علاوہ ژاک شیراک اور نکولا سرکوزی شامل ہیں

فرانس نے امریکہ کے قومی سلامتی کے ادارے کی جانب سے موجودہ صدر فرانسوا اولاند سمیت تین فرانسیسی صدور کی جاسوسی کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد امریکی سفیر کو طلب کر لیا ہے۔

انٹرنیٹ پر خفیہ راز افشا کرنے والی ویب سائٹ وکی لیکس کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے فرانسوا اولاند اور ان کے دو پیشرؤوں کی 2006 سے 2012 تک جاسوسی کی تھی۔

فرانس میں حکام کے مطابق فرانسیسی وزیر خارجہ لورانٹ فیبیس نے امریکی سفیر جین ہارٹلے کو ان دعووں پر بات کرنے کے لیے بلایا ہے اور وہ بدھ کو پیرس میں فرانسیسی وزارت خارجہ کا دورہ کریں گی۔

فرانسیسی حکومت نے ان انکشافات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس حرکت کو ناقابلِ قبول بھی قرار دیا ہے۔

فرانسیسی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اتحادیوں سے ایسا سلوک کیا جانا ناقابلِ یقین ہے۔

فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے وکی لیکس کے ان انکشافات کا جائزہ لینے کے لیے بدھ کو قومی دفاعی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے۔

فرانسوا اولاند کی جماعت سوشلسٹ پارٹی نے صدور کی جاسوسی کی اطلاعات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے جبکہ امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ نہ تو صدر اولاند کی بات چیت امریکی ہدف رہی ہے اور نہ مستقبل میں ایسا ہوگا۔

تاہم واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ماضی میں وکی لیکس کی جانب سے جرمن، برازیلی اور میکیسیکن رہنماؤں کی جاسوسی کے بارے میں جو اطلاعات سامنے آئی تھیں ان کے تناظر میں یہ اطلاعات بھی درست معلوم ہوتی ہیں۔

وکی لیکس نے این ایس اے کے خفیہ دستاویزات شائع کرنے شروع کیے ہیں جن میں فرانسیسی صدور کی نگرانی کی بات سامنے آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وکی لیکس نے این ایس اے کے خفیہ دستاویزات شائع کرنے شروع کیے ہیں جن میں فرانسیسی صدور کی نگرانی کی بات سامنے آئی ہے

اس حوالے سے امریکی محکمۂ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ ’ہم افشا ہوئے خفیہ دستاویزات کی صحت اور مواد پر تبصرہ نہیں کرتے۔‘

وکی لیکس کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق این ایس اے نے 2006 سے 2012 تک فرانسیسی صدور کی جاسوسی کی جن میں ژاک شیراک، نکولا سرکوزی اور فرانسوا اولاند شامل ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے افشا کی جانے والی دستاویزات کے مطابق امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی جرمن چانسلر سمیت 34 عالمی رہنماؤں کی نگرانی کرتی رہی ہے۔

ان دستاویزات کے سامنے آنے کے بعد امریکہ پر عالمی دباؤ بڑھا تھا کہ وہ جاسوسی کے پروگرام کی وضاحت کرے جبکہ جرمنی اور امریکہ کے تعلقات میں اس میں کشیدگی آئی تھی۔

جرمنی کی حکومت نے امریکہ کی جانب سے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے کے دو واقعات کے بعد امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایک اہلکار کو ملک سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔

ان اہلکاروں کے بارے میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ اہلکار امریکی سفارت خانے میں سی آئی اے کے نمائندے کے طور پر کام کرتے تھے۔

اسی بارے میں