بوسٹن بم دھماکوں کا مجرم معافی کا طلبگار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جوہر سارنیف کو انڈیانا کی فیڈرل جیل میں بھجوایا جائے گا جہاں وہ سزائے موت پر عملدرآمد کا انتظار کریں گے

امریکہ کے شہر بوسٹن میں دو سال قبل بم دھماکے کرنے کے مجرم جوہر سارنیف نے اس حملے کے متاثرین سے معافی مانگی ہے۔

21 سالہ چیچن نژاد سارنیف نے بدھ کو عدالت میں خود کو رسمی طور پر موت کی سزا سنائے جانے سے پہلے یہ معافی مانگی۔

دھماکے میں زخمی ہونے والوں اور ہلاک شدگان کے لواحقین کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے افسوس ہے کہ میں نے جانیں لیں اور آپ سب کو تکلیف میں مبتلا کیا۔

جوہر سارنیف اور ان کے بھائی نے 2013 میں بوسٹن میں ہونے والی سالانہ میراتھن ریس کے موقع پر اختتامی لائن کے قریب بم نصب کیے تھے جن کے پھٹنے سے چار افراد ہلاک اور 264 زخمی ہوئے تھے۔

جوہر کے 26 سالہ بھائی تیمرلان سارنیف بوسٹن بم دھماکوں کے دو روز بعد پولیس کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے تھے جبکہ انھیں امریکی پولیس نے میساچوسٹس میں ایک کشتی سے پکڑا تھا جو ایک گھر کے پیچھے کھڑی تھی۔

رواں برس مئی میں ان پر چلائے جانے والے مقدمے میںجیوری نے طویل مشاورت کے بعد انھیں مہلک ٹیکے کے ذریعے سزائے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سماعت کے بعد کمرۂ عدالت کے باہر متاثرین کی جانب سے سارنیف کے معافی مانگنے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔

بدھ کو عدالت میں سارنیف نے مقدمے کے دوران اپنے پہلے بیان میں کہا کہ انھوں نے ان سب لوگوں کی بات سنی جو مقدمے میں گواہی دینے آئے اور انہوں نے حملے میں زندہ بچ جانے والے لوگوں کی مضبوطی، صبر و تحمل اور وقار کو بھی دیکھا۔

سماعت کے بعد کمرۂ عدالت کے باہر متاثرین کی جانب سے سارنیف کے معافی مانگنے پر ملا جلا ردعمل دیکھنے کو ملا۔

متاثرین میں شامل ایک خاتون لین جولیئن کا کہنا تھا کہ سارنیف کی معافی کھوکھلی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’مجھے پچھتاوا ہے کہ میں نے اسے سننا چاہا۔ اسے کوئی ندامت نہیں تھی۔‘

تاہم دھماکے میں زخمی ہونے والے ایک شخص ہینری بوگارڈ نے کہا کہ وہ سارنیف کو معاف کرتے ہیں۔ ’یہ سننا کہ اسے اپنے کیے پر افسوس ہے میرے لیے کافی ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس کے خیالات حقیقی تھے۔ لیکن میرے پاس یہ جاننے کے لیے کوئی طریقہ نہیں۔‘

جوہر سارنیف کو انڈیانا کی فیڈرل جیل میں بھجوایا جائے گا جہاں وہ سزائے موت پر عملدرآمد کا انتظار کریں گے جبکہ اس دوران اعلی عدالتوں میں اپیل کا ایک طویل سلسلہ ہوگا۔

خیال رہے کہ ریاست میساچوسٹس میں سزائے موت کو سنہ 1984 میں کالعدم قرار دیا گیا لیکن جوہر سارنیف پر وفاق کے تحت مقدمہ چلایا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ انھیں موت کی سزا ہو سکتی تھی۔

اسی بارے میں