’ ماں کے حوصلے نے زندہ رہنے کی طاقت دی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ماں کو کچھ چوٹیں اور جلنے کی وجہ سے زخم آئے ہیں لیکن وہ بہت زیادہ خطرناک نہیں

مغربی کولمبیا کے ایک جنگل میں جہاز کے حادثے کے پانچ دن وہاں سے ایک ماں اور اس کا بچہ زندہ ملے ہیں۔

کولمبیا کے ایئرفورس کے چیف نے ان کے بچ جانے کو ایک معجزہ قرار دیا ہے۔

18 سالہ ماریا نیلی موریلو اور ان کا ایک سال کا بیٹا چوکو صوبے میں اس مقام کے قریب ہی ملا جہاں ان کا سیسنا طیارہ تباہ ہوا تھا۔

نیلی موریلو کو کچھ چوٹیں لگیں اور جلنے کی وجہ سے زخم آئے لیکن ان کے بچے کو خراش تک نہیں آئی اور اچھی حالت میں ملا۔

دو انجنوں والا سیسنا طیارہ جس میں مچھلی اور ناریل رکھے ہوئے تھے نوکوئی سے ساحلی شہر قوبڈو جا رہا تھا۔ 20 منٹ فضا میں اڑنے کے بعد طیارہ سول ایوی ایشن کے ریڈار سے غائب ہو گیا۔

جب پائلٹ نے کسی بھی کال کا جواب نہیں دیا تو اہلکاروں کو سمجھ آ گیا کہ کچھ ہو گیا ہے اور انھوں نے طیارے کی تلاش شروع کر دی۔

دو دن کے بعد تلاش کے لیے بھیجی گئی ٹیم کو گھنے جنگل میں ایک سفید چیز نظر آئی جو بعد سیسنا کا ڈھانچہ نکلی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ابھی یہ نہیں معلوم ہوا کہ طیارے کو حادثہ کیسے پیش آیا

جب ٹیم وہاں پہنچی تو انھوں نے دیکھا کہ طیارے کے پائلٹ کاک پٹ میں ہلاک ہو چکے تھے۔

کولمبیائی ایئرفورس کے کرنل ہیکٹر کاراسکل کے مطابق تلاش کرنے والوں کی امید اس وقت بندھی جب انھوں نے دیکھا کہ کیبن کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہو سکتا تھا کہ وہ ٹکر کی وجہ سے کھلا ہو لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اندر سے کھولا گیا ہو۔‘

’اس وقت ہم پریشان ہونا شروع ہو گئے تھے۔ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ انھیں کیا ہوا ہے: وہ جنگل میں زندہ رہنے کی کوشش میں گم بھی سکتے تھے یا وہ پہلے ہی مر سکتے تھے۔‘

لیکن اس کے بعد ان کو ایسے سراغ ملے جن سے انھیں یقین آنے لگا کہ ماں اور بیٹا زندہ بھی ہو سکتے ہیں۔

جہاز کے قریب پڑے ناریل کے خول اور اِدھر اُدھر پڑی جوتیوں نے ان کی امید بڑھا دی۔

ان کو بچے کی پیدائش کا سرٹیفیکیٹ بھی ایک درخت کے نزدیک سے ملا جس سے انھیں یقین ہو گیا کہ موریلو جنگل میں اپنے راستے کے نشان چھوڑ رہی ہیں۔

لیکن دو دن بعد بھی سرچ ٹیم کو کچھ نہ ملا۔

آخر کار بدھ کو جہاز کے حادثے کے مقام سے 500 میٹر دور ایک دریا کے کنارے موریلو ملیں۔

کرنل کاراسکل کہتے ہیں کہ ’یہ ایک معجزہ ہے۔ یہ ایک جنگلی علاقہ ہے اور یہ ایک تباہ کن حادثہ تھا۔‘

بچے کے متعلق انھوں نے کہا کہ ’اس کی ماں کے حوصلے نے اس میں زندہ رہنے کی طاقت دی ہو گی۔‘

اس کے بعد انھیں طیارے کے ذریعے قوبڈو کے ہسپتال پہنچایا گیا۔

موریلو نے بتایا کہ جب کیبن میں آگ پھیل رہی تھی تو انھوں نے کیبن کا دروازہ کھولا اور جنگل میں بھاگ گئیں۔

اطلاعات کے مطابق اس کے بعد وہ اپنے بچے کے لیے واپس گئیں جہاں ان کا چہرہ، بازو اور ٹانگ جھلس گئی۔

اسی بارے میں