کوبانی میں دولت اسلامیہ کے ہاتھوں 120 شہری قتل

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

شام سے ملنے اطلاعات کے مطابق کوبانی میں دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے ترک سرحد پر واقع اِس شہر پر نئے حملوں میں 120 سے زیادہ عام شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

شامی خانہ جنگی پر نظر رکھنے والے ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شہر میں داخل ہونے کے بعد حرکت کرتی ہوئی ہر چیز کو نشانہ بنایا۔

کوبانی اس برس جنوری میں دولت اسلامیہ کے خلاف کرد پیش مرگ جنگجوؤں کی مزاحمت کی علامت بن کر ابھرا تھا۔ کردوں نے امریکی فضائی مدد کے ساتھ کئی ماہ سے جاری دولت اسلامیہ کے محاصرے کو توڑ دیا تھا۔

کوبانی پر دولت اسلامیہ نے گذشتہ روز اُس وقت دو اطراف سے حملہ کردیا تھا جب کرد دستوں نے شامی شہر رقہ کے نزدیک شدت پسندوں کی ایک اہم سپلائی لائن کاٹ دی تھی۔

رقہ دولت اسلامیہ کی اُس خودساختہ خلافت کا دارالحکومت ہے جس کا اعلان شدت پسند تنظیم نے پچھلے سال شام اور عراق میں وسیع علاقوں پر قبضے کے بعد کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سیریئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس کے مطابق کوبانی میں دولت اسلامیہ نے یا تو شہریوں کو اُن کے گھروں میں قتل کر دیا یا پھر وہ تنظیم کے نشانے بازوں اور راکٹ حملوں کا نشانہ بنے۔

ادارے کے مطابق شہر کی سڑکوں اور گھروں سے بچوں اور خواتین کی لاشیں بھی ملی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ہو سکتا ہے کہ کچھ شدت پسند کوبانی لوٹنے والے لوگوں میں چھپ کر یا کرد پیش مرگہ دستوں کا بھیس بدل کر شہر میں گھس آئے ہوں۔ یہ بھی خبریں ہیں کہ کوبانی میں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں اور کردوں کے درمیان اب بھی جھڑپیں جاری ہیں۔

ایک دوسری پیش رفت میں اقوام متحدہ کے بقول 50 ہزار افراد اُس وقت شام کے شمال مشرقی شہر حصاکہ سے فرار ہو گئے جب دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں نے شہر پر حملہ کر دیا۔

شام میں گذشتہ چار برسوں کی خانہ جنگی میں دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک کروڑ دس لاکھ لوگ اپنے گھربار ترک کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں