کویت: شیعہ مسلمانوں کی مسجد پر بم حملہ، 27 ہلاک، 200 زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے منسلک ایک تنظیم نجد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے

کویت کی وزارتِ داخلہ کے مطابق دارالحکومت کویت سٹی میں واقع شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد میں ہونے والے خود کش دھماکے میں کم سے کم 27 افراد ہلاک اور 227 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

انٹرنیٹ پر مسجد میں ہونے والے دھماکے کے بعد کی تصاویر گردش کر رہی ہیں جن میں درجنوں زخمی افراد اور لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

یہ خود کش دھماکہ شیعہ مسلمانوں کی امام صادق مسجد میں ہوا جو شہر کے مشرقی علاقے الصوابیر میں واقع ہے۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے منسلک ایک تنظیم نجد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ دولتِ اسلامیہ نے حالیہ دنوں میں ہمسایہ ممالک سعودی عرب اور یمن میں بھی اس طرح کے حملے کیے تھے۔

روئٹرز نے کویت کی پارلیمان کے ایک رکن اور اس حملے کے عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ زوردار دھماکے کے وقت مسجد میں 2,000 افراد موجود تھے۔

الجزیرہ ٹی وی کے مطابق دھماکے کے وقت کویت کے امیر اس جگہ سے گزر رہے تھے۔

کویتی وزیراعظم شیخ جابر المبارک الصباح کا کہنا ہے کہ یہ حملہ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔ انھوں نے مزید کہنا کہ تاہم یہ کام دشمنوں کے لیے بہت مشکل ہے اور ہم اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہیں۔

ریاستی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم نے جائے وقوع کا دورہ کیا ہے۔

کویت میں سنی حکومت ہے اور ملک میں شیعہ اقلیت پائی جاتی ہے۔ دولتِ اسلامیہ شیعہ افراد کو نشانہ بناتی رہی ہے۔

اسی بارے میں