بیل آؤٹ پیکج: یونانی اخبارات کیا کہتے ہیں؟

یونانی اخبارات تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اخبارات کہتے ہیں کہ ملک کو دباؤ میں بلیک میل نہیں ہونا چاہیے

اگرچہ یونانی پارلیمان نے بیل آؤٹ پیکج پر وزیرِ اعظم ایلکس تسیپریس کے ریفرنڈ م کرانے کے فیصلے کی حمایت کر دی ہے لیکن وہاں کے اخبارات کے اداریے ملک کی سمت کے متعلق کافی مختلف نقطۂ نظر پیش کر رہے ہیں۔

مسٹر تسیپریس کی جماعت ’سائریزا‘ کے اخبار میں صفحۂ اول پر دائیں سے بائیں ’نہیں‘ کا لفظ نظر آتا ہے۔

اخبار عالمی اداروں اور یورپی شرائط کو ماننے سے انکار کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’نہ بلیک میل، نہ الٹی میٹم، نہ سماجی دیوالیہ پن، نہ معاہدوں کی تحریری دستاویزات اور نہ کفایت شعاری‘۔

اخبار اس بات پر زور دیتا ہے کہ آئندہ دنوں کرایا جانے والا ریفرنڈم ایک جمہوری آپشن ہے جو یورپ اور یونان دونوں کے لیے مثبت قدم ہے۔

سنٹر رائٹ کے اخبار ’کاتھیمیرینی‘ کی شہ سرخی ہے ’قدیم ایتھنز کا آسمان بادلوں کے نرغے میں۔‘ اس شہ سرخی کے ساتھ ہی ایک تصویر ہے جس میں یونان اور یورپی اتحاد کے جھنڈے کے اوپر آسمان تاریک نظر آ رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک تصویر میں یونان اور یورپی اتحاد کے جھنڈے کے اوپر آسمان تاریک دکھایا گیا ہے

اس اخبار کا مخالفت پر آمادہ اداریہ کہتا ہے ’ہم یورپ میں رہیں گے‘۔ انیس سو چالیس میں یونان میں ہونے والی خانہ جنگی کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار کہتا ہے ’اس ملک کو پھر سے تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔‘

حکمراں جماعت سائریزا کا مخالف مگر مقبول اخبار ’پروٹو تھیما‘ کے اتوار کے ایڈیشن کے لیے ملک بھر سے ایک ہزار افراد سے رائے پوچھی گئی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ 57 فیصد لوگ کہتے ہیں کہ وہ ایسے کسی بھی معاہدے کی حمایت کریں گے جس سے یونان یورو زون کا حصہ رہے۔ 14 فیصد افراد نے جواب دینے سے انکار کیا۔

اخبار کہتا ہے کہ ’اگر (حکمراں پارٹی) سائریزا بات چیت سے معاہدہ نہیں کرسکتی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم سو سال پیچھے چلے جائیں۔‘

کمیونسٹ اخبار ’ریزوسپاسٹس‘ یورو زون کو دولت کے غلط استعمال اور اختیار سے جوڑتا ہے لیکن یہ اخبار ریفرنڈم کے حق میں نہیں۔ ہفتے کو اس جماعت کے لیڈر نے یونانیوں سے کہا تھا کہ وہ اپنے بیلٹ پیپر ضائع کر دیں۔

سنٹر رائٹ کا اخبار ’فری پریس‘ کہتا ہے ’مسٹر تسیپریس ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔‘ یہ اخبار صورتِ حال کو ’قومی المیہ‘ قرار دیتا ہے اور ایلکس تسیپریس کو دو ہزار گیارہ میں سابق وزیرِ اعظم جورج پیپنڈریوکے تجویز کردہ ریفرنڈم کی مخالفت کرنے پر منافق قرار دیتا ہے۔

’ایتھنوس‘ اخبار کی شہ سرخی ہے ’بڑا تذبذب‘۔ اخبار اداریے میں کہتا ہے کہ ’لوگوں کو (ریفرنڈم میں) بیل آؤٹ پیکج کی تجاویز کے بارے میں نہیں بلکہ یورپ کے بارے میں ہاں یا نہ کہنا ہوگا۔‘

اخبار ’سنڈے ڈیموکریسی‘ نے خبردار کیا ہے کہ ’جمہوری پیش رفت کے بعد‘ یونان میں طوفان آنے والا ہے۔ اخبار کے مطابق یونان اپنی جدید تاریخ کے مشکل ترین مقام پر پہنچ چکا ہے۔ اخبار نے کیش دینے والی مشینوں اے ٹی ایمز پر قطاروں کو دیکھ کر ہیجانی سرخی جمائی ہے ’اے ٹی ایمز پر افراتفری‘۔

اسی بارے میں