ہم جنس پرستوں کی شادی کا فیصلہ ’قانون سے ماورا فیصلہ‘: ٹیکسس

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے باوجود ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے مخالفین مزید قانونی پیچیدگیاں ڈالنے کی تیاریاں کر رہے ہیں

امریکی ریاست ٹیکسس کے اٹارنی جنرل نے امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے کے فیصلے کو ’قانون سے ماورا فیصلہ‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے مزید کہا ہے کہ وہ ریاست میں ان پادریوں کی حمایت کریں گے جو مذہبی بنیادوں پر ہم جنس پرستوں کی شادی کرانے سے انکار کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ جمعے کو امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ہم جنس پرستوں کا شادی کرنا ان کا آئینی حق ہے۔

ٹیکسس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے کہا کہ شادی کے لائسنس کا اجرا کرنے سے انکار کرنے والے کارکنوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسے کارکنان کی قانونی جنگ مفت میں لڑی جائے گی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے مخالفین مزید قانونی پیچیدگیاں ڈالنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

اٹارنی جنرل کین پیکسٹن نے ریاستی اہلکاروں کو ایک یادداشت میں لکھا ہے: ’ہم جنس شادیوں کے بارے میں حال ہی میں منظور کیا جانے والا قانون طویل مدتی آئینی و قانونی حقوق کے ساتھ ساتھ ہم آہنگ ہو کر رہ سکتا ہے، اور اسے رہنا چاہیے۔ ان حقوق میں مذہب اور آزادیِ اظہار کے حقوق شامل ہیں۔‘

جمعے کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کئی ہم جنس جوڑوں کی ٹیکسس میں شادی ہو گئی ہے۔ تاہم ٹیکسس کی قریبی ریاست مِسیسِپی نے ہم جنس پرستوں کو شادی کے سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کیے۔

مسیسپی کے اٹارنی جنرل جم ہوڈ کا کہنا ہے کہ ریاست میں ہم جنس پرستوں کی شادی اس وقت تک قانونی نہیں ہو گی جب تکہ امریکہ کی پانچویں سرکٹ کورٹ آف اپیلز اس کی منظوری نہیں دیتی۔

تاہم ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ عدالت یہ منظوری کب دیتی ہے۔

لوئی زیانا میں حکام کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بات کہیں نہیں کہی گئی کہ ہم جنس پرستوں کی شادی کے حوالے سے قانون فوری طور پر لاگو ہو گیا ہے، البتہ ریاست نے پیر سے شادی کے لائسنسوں کا اجرا شروع کردیا ہے۔

لوئی زیانا کے گورنر بوبی جنڈل نے این بی سی نیوز سے اتوار کو بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ ہماری ایجنسیاں عدالت کے فیصلے کا احترام کریں گی۔‘

بوبی جنڈل نے کہا: ’میرے خیال میں یہ وفاقی حکومت کا غلط قدم ہے کہ عیسائیوں، کاروباری اداروں، پادریوں اور گرجا گھروں سے زبردستی ایسی شادیاں کرائی جائیں جو ہمارے مذہبی عقیدے کی نفی کرتی ہوں۔‘

اسی بارے میں