ایران سے مذاکرات ڈیڈ لائن کے بعد بھی جاری رہیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ US DEPARTMENT OF STATE
Image caption مذاکرات میں شامل امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، چین اور جرمنی (پی فائیو پلس ون ممالک) چاہتے ہیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام میں حساس کارروائیاں روک دے تاکہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنا سکے

ایران اور مغربی ممالک کے درمیان جوہری معاہدے کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد فریقین نے معاہدے پر پہنچنے کے لیے ایک ہفتہ مزید بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

ایران اور مغربی ممالک نے جوہری معاہدے پر پہنچنے کے لیے 30 جون کی ڈیڈ لائن مقرر کر رکھی تھی۔

سفارت کاروں کے مطابق ابتدائی معاہدے کی اہم شرائط پر اتفاق ہو گیا ہے جس میں ایران نے یورینیم کی افزدوگی کم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جس کے نتیجے میں جوہری بم بنانا مشکل ہو گا۔

روس کے وزیر خارجہ سرگے لاروف نے کہا ہے کہ اب بھی کئی معاملات طے کرنا باقی ہیں تاہم انھیں یقین ہے کہ معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔

یورپی اتحاد نے معاہدے کی ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد ایران پر عائد پابندیوں میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کر دی ہے۔

اس سے پہلے منگل کو ایران کے وزیرِ خارجہ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام کے سلسلے میں جاری مذاکرات کے آخری مراحل کے لیے ویانا پہنچ گئے ہیں۔

محمد جواد ظریف کے ہمراہ ایران کی جوہری ایجنسی کے سربراہ اور صدر حسن روحانی کے بھائی بھی موجود ہیں۔ مذاکرات میں شامل کئی اہلکاروں کا کہنا تھا کہ انھیں ان مذاکرات میں حتمی مہلت سے پہلے معاہدہ طے پانے کی امید نہیں تاہم مذاکرات میں بہت پیش رفت ہو چکی ہے۔

دوسری جانب بی بی سی کے نامہ نگار کی رائے ہے کہ مذاکرات میں کامیابی ابھی دور ہے۔

مذاکرات میں شامل امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، چین اور جرمنی (پی فائیو پلس ون ممالک) چاہتے ہیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام میں حساس سرگرمیاں روک دے تاکہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔

اس کے عوض ایران چاہتا ہے کہ بین الاقوامی تجارتی پابندیاں ہٹا دی جائیں اور اس کا اصرار ہے کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وزیرِ خارجہ جواد ظریف اٹامک انرجی آرگنائزیشن آف ایران کے سربراہ علی اکبر صالحی سمیت صدر روحانی کے بھائی اور مشیر حسین فریدون منگل کو ویانا پہنچے۔

ایران کی ریاستی خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ علی اکبر صالحی کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران مذاکرات میں تیزی لانا چاہتا ہے اور جلد از جلد معاہدے کو حتمی شکل دینا چاہتا ہے۔

امریکی یونیورسٹی ایم آئی ٹی سے تعلیم یافتہ،جوہری معاملات میں ایران کے اہم ترین تکنیکی ماہر علی اکبر صالحی مذاکرات کے گذشتہ دور میں خرابیِ صحت کی وجہ سے شامل نہیں ہو سکے تھے۔

منگل کی صبح امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات کرنے سے پہلے ایرانی وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میرے خیال میں مذاکرات انتہائی نازک مرحلے پر ہیں۔ ہم پیش رفت کر سکتے ہیں مگر اس کے لیے سیاسی عزم کی ضرورت ہوگی اور ابھی بہت کام کرنا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’میں یہاں حتمی معاہدہ کروانے آیا ہوں۔‘

ویانا سے بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رابنز کا کہنا ہے کہ پی فائیو پلس ون ممالک کے وزرائے خارجہ آئندہ ہفتے میں مختلف موقعوں پر مذاکرات میں شامل ہوں گے۔

امریکی صدر اوباما کے پاس مذکورہ معاہدے کو کانگریس کے سامنے رکھنے کے لیے نو جولائی کی آخری تاریخ ہے۔ اگر صدر اوباما نو جولائی سے پہلے یہ معاہدہ کانگریس کے سامنے لے آئے تو اس پر نظر ثانی کرنے کے لیے 30 روز تک کا وقت دیا جا سکتا ہے اور اس وقت کے لیے امریکی پابندیاں منسوخ کی جا سکتی ہیں۔

مگر اگر صدر اوباما یہ معاہدہ نو جولائی کے بعد کانگریس کو پیش کرتے ہیں تو یہی وقت 60 روز کا ہو گا۔

اسی بارے میں