کویت میں حملے کے بعد شیعہ سنّی مزید قریب ہو گئے

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خودکش دھماکے میں کم سے کم 27 افراد ہلاک اور 227 زخمی ہو گئے تھے

کویت کے دارالحکومت کویت سٹی میں واقع شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کے بعد کویتی شہری کھلے عام فرقہ واریت کو مسترد کر رہے ہیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر آپس میں متحد رہنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

مسجد پر خودکش حملہ سعودی شہری نے کیا تھا اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

بظاہر اس حملے کا مقصد کویت میں شیعہ سنّی تفریق پیدا کرنا تھا لیکن واقعے کا ملک میں الٹا اثر ہوا ہے اور دارالحکومت کی گلیوں میں دونوں فرقوں کے افراد مل کر اس واقعے کی مذمت کر رہے ہیں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر اتحاد و اتفاق قائم رکھنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

ٹوئٹر پر عربی میں ہیش ٹیگ onerank# کو حملے کے بعد دس ہزار بار استعمال کیا گیا ہے اور اس ہیش ٹیگ کا مقصد تھا کہ کویتی شہریوں کو فوج کی طرح متحد ہو کر دہشت گردی کو شکست دینا چاہیے۔

hamedalbader@نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ دہشت گردی کا کوئی مذہب اور نہ ہی کوئی شہریت ہوتی ہے تو آئیں جرائم کی سرگرمیوں سے خود کو منسوب نہ کریں کیونکہ یہ معاشرے کے بعض حلقوں کے لیے ہے اور ہم اپنا غصہ ان پر نکالیں۔‘

اسی طرح کا ایک ہیش ٹیگ کویت ایک ہے اور کویت مضبوط ’Kuwait is one" and "Kuwait is strong‘ بہت ٹرینڈ کر رہا ہے اور اس میں بہت سارے افراد کویت کے امیر شيخ صباح الاحمد الجابر الصباح کے دھماکے کے فوری بعد مسجد کے دورے کے موقعے پر دیے گئے بیان کا ذکر کر رہے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والے ’میرے بچے‘ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کویت کے ایک نامور صحافی عبداللہ کی ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے

اس کے علاوہ کویت کے ایک نامور صحافی کی ویڈیو شیئر کی جا رہی ہے۔ صحافی عبداللہ بفتان شیعہ مسلمان ہیں اور دھماکے کے بعد مسجد پہنچے تھے اور وہاں لوگوں کو ترغیب دی تھی کہ سنّی مسلمانوں پر الزام عائد نہ کیا جائے اور تمام طرح ذمہ داری دولتِ اسلامیہ کی ہے جس نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

’ملک کو ضرورت ہے کہ ہم متحد رہیں، آج حملہ اسلام پر ہوا ہے نہ کہ سنّی یا شیعہ پر۔‘

کویت کی آبادی کا 30 سے 40 فیصد شیعہ ہے اور اختتام ہفتہ پر ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جس میں شیعہ اور سنّی ایک ساتھ نماز ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ان ویڈیو کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر بہت زیادہ شیئر کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ان تصاویر اور ویڈیو کا تبادلہ بھی کیا جا رہا ہے جس میں دھماکے کے فوری بعد شیعہ اور سنّی دونوں ایک ساتھ زخمیوں کے لیے خون عطیہ کر رہے ہیں۔

صحافی گونام ال گونام کے قریبی دوست علی رابی ال نصیر اس دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سنّی ہیں اور ان کے دوست شیعہ تھے لیکن یہ فرق ان دونوں کے ذہن میں کبھی نہیں آیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے شیعہ مسلمانوں کی مساجد پر حملوں کے بعد وہ پریشان تھے اور اپنے دوست علی سے کہا تھا کہ ’میرے خیال میں اب تمھیں گھر میں ہی نماز ادا کرنی چاہیے تو اس پر علی نے جواب دیا، پریشان مت ہو، ہم مسجد میں کیمرے نصب کر لیں گے اور سب ٹھیک رہے گا۔‘

خیال رہے کہ خطے میں کویت ان ممالک میں شامل ہے جہاں شیعہ مسلمان تعداد میں خاصے زیادہ ہیں لیکن وہاں سعودی عرب اور بحرین کی طرح فرقہ وارانہ ٹکراؤ ابھر کر سامنے نہیں آیا۔

اسی بارے میں