’امریکہ اور کیوبا سفارت خانے دوبارہ کھولیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ سال دسمبر میں دونوں ممالک نے تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا

امریکی حکام کے مطابق کیوبا اور امریکہ بدھ کو ایک دوسرے کے دارالحکومت میں اپنے سفارت خانے کھولنے کا اعلان کریں گے۔

اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان 1961 سے ختم ہونے والے سفارتی تعلقات دوبارہ بحال ہو جائیں گے۔

امریکہ کیوبا تعلقات: چی گویرا ہوتے تو کیا کرتے؟

امریکہ نے کیوبا میں 1961 کے انقلاب کے بعد کیمونسٹ رہنما فیدل کاسترو کے اقتدار میں آنے کے بعد سفارتی تعلقات توڑ لیے تھے اور اس پر تجارتی پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

امریکی حکام کے مطابق صدر اوباما بدھ کو گرینج کے معیاری وقت کے مطابق دوپہر تین بجے وائٹ ہاؤس میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کریں گے۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سفارت خانے کس تاریخ سے کام کرنا شروع کر دیں گے تاہم توقع ہے کہ جولائی کے وسط تک ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔

کیوبا میں بی بی سی کے نامہ نگار ولِ گرانٹ کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ کو سفارت خانہ کھولنے سے دو ہفتے قبل کانگریس کا آگاہ کرنا ضروری ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی میں سفارت خانے کھولنے کا اقدام ایک اہم سنگ میل ہو گا۔

دونوں ممالک نے گذشتہ سال کے اختتام پر تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا اور رواں سال مئی میں امریکہ نے کیوبا کا نام دہشت گردی کی سرپرستی کر نے والی ریاستوں کی فہرست سے نکال دیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی تھی۔

کیوبا کا نام سنہ 1982 سے اس فہرست میں شامل تھا اور ماضی میں امریکی حکومت کی جانب سے کیوبا پر ہسپانوئی علیحدگی پسند گروپ ایٹا اور کولمبیا کے بائیں بازوں کے گوریلا گروپ فارک کی مدد کا الزام لگتا رہا ہے۔

واضع رہے کہ صدر براک اوباما نے گزشتہ سال دسمبر میں دونوں ممالک میں تعلقات بہتر بنانے کا تاریخی اعلان کیا تھا لیکن کیوبا پر امریکی تجارتی پابندیاں ابھی بھی برقرار ہیں انھیں صرف کانگریس کی جانب سے ہی ہٹایا جاسکتا ہے۔

اسی بارے میں