برٹش پیٹرولیم 12 ارب پاؤنڈ ہرجانہ ادا کرے گی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنہ 2010 میں ڈیپ واٹر ہاریزون آئل رگ میں ہونے والے دھماکے کے بعد 125 ملین گیلن سے زیادہ تیل خلیج میں بہہ گیا تھا

بی پی یعنی برٹش پیٹرولیم کا امریکی محکمہ انصاف کے ساتھ سنہ 2010 میں خلیج میکسیکو میں تیل کے بہہ جانے پر تصفیہ 18.7 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

یہ امید کی جا رہی ہے کہ امریکی وفاقی جج ماحولیاتی تباہی کے بعد ’کلین واٹر ایکٹ‘ کے جرمانے کے تحت بی پی پر واجب الادا رقم پر فیصلہ سنا دیں گے۔

سنہ 2010 میں ڈیپ واٹر ہاریزون آئل رگ میں ہونے والے دھماکے کے بعد بارہ کروڑ 50 لاکھ گیلن سے زیادہ تیل خلیج میں بہہ گیا تھا۔

یہ امریکی تاریخ میں کسی بھی ایک کمپنی کی جانب سے سب سے بڑا تصفیہ ہے۔

ڈیپ واٹر ہاریزون میں تیل کا اخراج امریکی تاریخ میں سب سے بدترین ماحولیاتی تباہی تھی جس میں 11 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

2012 میں اصل زر تلافی کے معاہدے کے خلاف تیل کا کاروبار کرنے والی بڑی کمپنیوں کی جانب سے چیلنج کیے جانے کو دسمبر میں امریکی سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا تھا۔

عدالت کی جانب سے دعوؤں کی نگرانی کے لیے مقرر کیے جانے والے پیٹرک جیونیو کے مطابق ’اس وقت تک بی پی کاروباری نقصانات کے دعوؤں کے نام پر چار ارب 25 کروڑ ڈالر میں سے 2 ارب 30 کروڑ ڈالر ادا کر چکا ہے۔

بی پی کا کہنا ہے کہ تیل کے اخراج سے وابستہ اس کے اخراجات پہلے ہی 43 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جبکہ اس میں کلین واٹر ایکٹ کا جرمانہ شامل نہیں ہے۔

امریکی اٹارنی جنرل لوریٹا ای لینچ کا کہنا ہے کہ ’اگر عدالت اس کی منظوری دے دیتی ہے تو یہ امریکی تاریخ میں کسی بھی کمپنی کا سب سے بڑا تصفیہ ہوگا۔ اس سے خلـیجی معیشت ، فشریز، جھیلوں اور وائلڈ لائف کو ہونے والے نقصان کی تلافی ہو سکے گی اور اس سے خلیج کو آنے والی نسلوں تک فائدہ ہوگا۔

بی پی کے گروپ چیف ایگزیکٹو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’بی پی کے لیے یہ معاہدہ اس حادثے کے بعد سے اب تک کے تمام واجبات کا مسئلہ حل ہو سکے گا اور بی پی دنیا کو توانائی کی محفوظ ترسیل پر توجہ دے سکے گی۔

اسی بارے میں