اِنکا تہذیب کی دیرپا سڑک، جدید ماہرین کے لیے سبق

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 2014 میں یونیسکو نے سڑک کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا

کیا قدیم معماروں کے پاس دیر پا سڑکیں بنانے کا راز تھا؟ امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے سمتھ سونیئن انسٹی ٹیوٹ میں ایک نمائش اس بات کو اجاگر کر رہی ہے کہ لاطینی امریکی کی قدیم اِنکا تہذیب نے ایسا دیرپا انفراسٹرکچر کیسے تعمیر کیا۔

انکا روڈ نامی سڑک دنیا میں انجینیئرنگ کا ایک نادر کارنامہ سمجھی جاتی ہے۔ 16ویں صدی تک اس نے چھوٹی سی ریاست کو مغربی دنیا کی سب سے بڑی سلطنت میں بدل دیا۔

جدید انجینیئروں کے رشک کی وجہ یہ ہے کہ اس طویل سڑک کے کچھ حصے آج بھی موجود ہیں جو ارجنٹینا، بولیویا، چلی، ایکواڈور اور پیرو میں سینکڑوں برادریوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرتے ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ یہ سڑک تمام تر ہاتھوں سے بنائی گئی، بغیر کسی لوہے اور بغیر کسی پہیوں والی سواری کے۔ نیشنل میوزیم آف دی امریکن انڈین میں لگائی گئی یہ نمائش چھ سال کی تحقیق کا نتیجہ ہے اور اس سے معلوم ہوا ہے کہ اِنکا تہذیب پانی کے استعمال کی ماہر تھی۔

اس نمائش کے منتظم ہوزے بارئیرو کا کہنا ہے کہ ’جب ہم پیرو میں ماچو پیچو کو دیکھتے ہیں تو وہ پہاڑ کے اوپر ایستادہ شاندار آثار نظر آتے ہیں۔ بدقسمتی سے زیادہ تر افراد دیکھ نہیں سکتے یا وہ نہیں جانتے کہ اصل شاہکار تو اس کے نیچے ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’پانی کے جس نظام سے فواروں کو پانی فراہم کیا جاتا تھا وہ آج تک کام کر رہا ہے۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ تو اس بات سے واقف رہے ہیں، یہ نمائش اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ انکا تہذیب میں پانی کے بارے میں سمجھ بوجھ کس قدر تھی اور انھوں نے اس ٹیکنالوجی کو سڑکیں بنانے کے لیے کیسے استعمال کیا۔‘

ہوزے بارئیرو کہتے ہیں ’ہر سال پانی بہت سی جدید سڑکوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ مگر انکا کی بنائی ہوئی سڑکیں آج تک قائم ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ماچو پیچو کی پتھر سے بنی بظاہر خشک یاد گار کے نیچے آبپاشی کا ایک پیچیدہ نظام موجود ہے

ان کا کہنا ہے کہ انکا کی بنائی ہوئی سڑکیں بہت پائیدار ہیں۔ ’ان کی تیاری میں زلزلوں کو مدِنظر رکھا گیا ہے اور آج کے ماہرین اس طرح کی سوچ کے بارے میں جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔‘

انکا کی کامیابی کی کنجی استحکام تھا۔ انکا مقامی صورت حال پر خصوصی توجہ دیتے تھے، مقامی اشیا کا استعمال کرتے تھے اور زمین کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ کام کرتے تھے۔

زیادہ ڈھلانوانی مقامات میں وہ پانی کی توانائی ختم کرنے کے لیے اور کٹاؤ سے بچنے کے لیے سیڑھیاں بنا دیتے تھے۔ زیادہ اونچائی پر وہ مقامی پتھروں کی مدد سے سڑکوں کو برف کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچاتے تھے اور جہاں ضرورت ہوتی تھی وہ پانی کی نکاسی کا نظام بھی بناتے تھے۔

نمائش کے ایک اور منتظم رامیرو ماتوس کا کہنا ہے کہ انکا کی خاصیت یہ تھی کہ وہ ماحول کا تحفظ کرتے تھے اور ان کے لیے سڑک قدرت کا حصہ تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہوزے بارئیرو کہتے ہیں: ’ہر سال پانی بہت سی جدید سڑکوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ مگر انکا کی بنائی ہوئی سڑکیں آج تک قائم ہیں‘

ان کا کہنا ہے کہ ان کا بچپن اسی سڑک پر چلتے پھرتے گزرا ہے اور اس کے ساتھ ان کا گہرا جذباتی رشتہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک سڑک نہیں ہے، یہ آفاقی سڑک ہے، جدید زمانے میں لوگ اسے زندہ سڑک کہتے ہیں۔ ’بولیویا کے کالاوایا اس سڑک پر آج بھی سفر کرتے ہیں تاکہ ان کی روحانی توانائی صاف ہو۔ ان کے خیال میں اس سڑک کی روح ہے۔‘

2014 میں یونیسکو نے سڑک کو عالمی ورثہ قرار دیا تھا۔

اس سلطنت کا روحانی مرکز اور دارالحکومت جنوب مشرقی پیرو میں کسکو تھا۔ تمام سڑکیں اسی شہر سے نکلتی تھیں۔ سڑک کے کنارے بہت سے مقدس مقامات کی ’وکاس‘ کے ساتھ نشاندہی کی گئی ہے۔ وکاس اِنکا خداؤں دھرتی ماں اور سورج کی قربان گاہوں کے لیے استعمال ہوتے تھے اور ان کے لیے پتھروں، عمارتوں اور یہاں تک کہ دریاؤں کی مدد سے نشاندہی کی گئی ہے۔

آج بھی ایسی بہت سی روایات قائم ہیں اور اس نمائش میں یہی دکھایا گیا ہے کہ یہ سڑک مختلف نسلوں کو کیسے جوڑتی ہے۔