شام: حلب پر باغیوں کا بڑا حملہ پسپا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہر میں جاری لڑائی کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں

شام میں باغیوں کی جانب سے ملک کے جنوب میں واقع شہر حلب پر قبضے کے لیے کیے جانے والے ایک بڑے حملے کے بعد شامی افواج نے باغیوں کے ٹھکانوں پر فضائی بمباری کی ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق جمعرات کو باغیوں نے شہر میں حکومت کے زیرِقبضہ علاقوں پر کئی سو راکٹ داغے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا مزید کہنا ہے کہ لڑائی جمعے کے ابتدائی گھنٹوں تک جاری رہی۔

دوسری جانب شام کے سرکاری خبر رساں ادارے سانا کا کہنا ہے کہ باغیوں کے حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے اور لڑائی میں سو سے زیادہ باغی مارے گئے ہیں۔

کسی زمانے میں شام کا تجارتی اور صنعتی مرکز تصور کیے جانے والے شہر حلب میں گذشتہ تین برسوں سے لڑائی جاری ہے۔ شہر کے کچھ علاقے حکومت کے زیرِ انتظام ہیں جبکہ کچھ علاقوں پر باغی افواج قابض ہیں۔

شہر میں جاری لڑائی کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور قدیم حلب شہر کا 60 فیصد علاقہ تباہ ہو چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو نے اس شہر کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption باغی افواج نے چند عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے مگر ان کو خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے

واضح رہے سنہ 2012 سے صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت کے بعد سے حلب میں باغیوں اور حکومتی افواج کے درمیان جنگ جاری ہے۔

حالیہ مہینوں میں حکومتی افواج کو ملحقہ صوبے ادلب میں اور دیگر دیہی علاقوں میں باغیوں کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

گذشتہ ماہ باغیوں نے کہا تھا کہ وہ حلب پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں اور اسی سلسلے میں جمعرات کو النصرہ فرنٹ نے دیگر باغی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک نیا اتحاد بنانے کا اعلان کیا تھا۔

تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ جلد حلب کو مکمل طور پر حکومتی افواج سے ’آزاد‘ کروا لیں گے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے لڑائی جماعت الزہرہ کے علاقے میں ہوئی جہاں اہم حکومتی فوجی تنصیبات واقع ہیں۔

تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ باغی افواج نے چند عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے مگر ان کو خاطرخواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

یاد رہے کہ مارچ سنہ 2011 میں شامی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ سے زائد افراد ہلاک اور ایک کروڑ سے زیادہ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں