یونان میں امدادی پیکیج کی شرائط کے حق اور مخالفت میں جلوس

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونانی دارالحکومت میں اس وقت ہزاروں افراد سڑکوں پر موجود ہیں

یونان میں عالمی قرض خواہوں کے بیل آؤٹ پیکیج کی شرائط پر اتوار کو منعقد ہونے والے ریفرینڈم سے پہلے دارالحکومت ایتھنز میں ہزاروں افراد شرائط کے حق اور مخالف جلوس نکال رہے ہیں۔

ملک کی اعلیٰ عدالت نے ریفرینڈم کے خلاف دائر کی گئی درخواست کو مسترد کر دیا جبکہ دارالحکومت میں ریفرینڈم میں قرض خواہوں کے حق اور مخالفت میں ہزاروں میں افراد دو مختلف مقامات پر جمع ہیں۔

شرائط کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کی نفی کے حق میں مظاہرے کرنے والوں سے جھڑپ بھی ہوئی ہے جس پر پولیس نے قابو پا لیا۔

اس سے پہلے یونان کے وزیراعظم ایلکسس تسیپراس نے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ بیل آؤٹ کے لیے اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم میں ’بلیک میلنگ‘ کو مسترد کر دیں۔

جمعے کو اپنے مختصر ٹی وی خطاب میں انھوں نے زور دیا کہ یورپی یونین میں یونان کی موجودگی داؤ پر نہیں لگی ہوئی اور انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ووٹرز ’خوف کے سائرن بجانے والوں کو‘ مسترد کر دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونان کے وزیرِ اعظم نے عوام سے کہا کہ وہ ریفرینڈم میں قرض کی شرائط کو مسترد کر دیں

واضح رہے کہ اتوار کو یونان میں عالمی قرض خواہوں کی شرائط پر ریفرینڈم منعقد ہو رہا ہے اور یونانی وزیراعظم متعدد بار عوام سے اپیل کر چکے ہیں کہ اس ریفرینڈم میں شرائط کو رد کیا جائے۔

یورپی یونین نے یونان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر ریفرینڈم میں ’نہ‘ کا فیصلہ کیا گیا تو امکانات ہیں کہ یونان کو یورپی یونین سے نکال دیا جائے گا۔

اس سے قبل عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا تھا کہ یونان کو موجودہ متنازع بیل آؤٹ پیکیج کے دوران بھی اپنے مالی معاملات کو درست رکھنے کے لیے اضافی 50 ارب یورو کی ضرورت ہو گی۔

عالمی مالیاتی فنڈ نے اس کے ساتھ یونان کی شرح نمو کو 2.5 فیصد سے کم کر کے صفر کر دیا ہے۔

اس کے علاوہ مالیاتی ادارے نے اپنی اس رائے کو بھی دہرایا ہے کہ یونان کو قرض میں سہولت دینے کے لیے کم سود پر رقم اور قرض کی رقم کی واپسی میں توسیع کی سہولت کی ضرورت ہے۔

جمعرات کو یوروزون کے وزرائے خزانہ کے گروہ کے سربراہ نے کہا تھا کہ یونان میں بیل آؤٹ کی شرائط پر ریفرینڈم میں ’نہ‘ کا ووٹ یونان کی معیشت کے بحران کے حل کے لیے کوئی آسان راستہ نہیں نکال پائے گا۔

ییرون ڈائیسلبلوم کا بیان یونان کے وزیرِ اعظم کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ’نہ‘ کا ووٹ بہتر معاہدے کی طرف لے جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یونانی بینکوں کے آگے پینشن لینے والوں کی لمبی قطاریں نظر آئیں

ڈائیسلبلوم نے اصرار کیا کہ ایسا کہنا ہی غلط ہے۔

ڈائیسلبلوم نے، جو ڈینمارک کے وزیرِ خزانہ ہیں، ڈینمارک کی پارلیمانی کمیٹی کو بتایا کہ اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم میں اگر یونانی ووٹروں نے بیل آؤٹ پیکج کی شرائط کو رد کیا تو دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات ختم کرنا بہت مشکل ہو جائے گا۔

’اس سے یونان اور یورپ، دونوں ہی بہت مشکل میں پڑ جائیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ یونانی حکومت ہر بات کو یہ کہہ کر رد کر رہی ہے کہ اگر آپ نے ’نہ‘ کا ووٹ ڈالا تو آپ کو بہتر اور کم سخت یا زیادہ دوستانہ پیکیج ملے گا۔ اس طرح کی تجویز صاف طور پر غلط ہے۔

اس ہفتے یورپی سینٹرل بینک کی ہنگامی فنڈنگ بند ہونے کے بعد زیادہ تر یونانی بینک بند رہے لیکن کچھ شاخیں کھلی رہیں تاکہ پینشنرز 120 یورو تک نکال سکیں۔

کیش مشینوں سے ایک دن میں صرف لوگ 60 یورو تک ہی نکال سکتے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور کئی کاروباری اداروں نے پیداواری سرگرمیاں بند کی ہوئی ہیں کیونکہ وہ سپلائروں کو پیسے نہیں دے سکتے اور کئی دکانیں بھی وہاں کام کرنے والوں کو بغیر تنخواہ کے چھٹی پر بھیج رہی ہیں۔

اب جبکہ یورپی رہنماؤں نے ریفرینڈم سے پہلے کسی بھی معاہدے کو خارج الامکان قرار دیا ہے دونوں فریق امید کر رہے ہیں کہ اس لامتناہی بحث کا اختتام بیلٹ بکس کے ذریعے ہو جائے۔

یونان کی بائیں بازو کی سریزا پارٹی کی حکومت کفایت شعاری کے خلاف پلیٹ فارم پر منتخب ہوئی تھی، اور وہ کئی مہینوں سے قرض دہندگان کے ساتھ تیسرے بیل آؤٹ کی شرائط پر الجھی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں