کویت میں جمعے کو شیعہ سنّی مسلمانوں نے اکھٹے نماز ادا کی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کویت کے دارالحکومت کویت سٹی میں واقع شیعہ مسلمانوں کی ایک مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کے ایک ہفتے بعد شہر میں شیعہ اور سنّی مسلمانوں نے ایک ساتھ نمازِ جمعہ ادا کر کے آپس میں اتحاد و اتفاق کا اظہار کیا ہے۔

کویت میں حملے کے بعد شیعہ سنّی مزید قریب ہو گئے

مسجد پر خودکش حملہ سعودی شہری نے کیا تھا اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

کویت کی گرینڈ مسجد میں سنّی مسلمانوں کے امام ولید العلی نے خطبے میں کہا کہ’ شدت پسندی اس قتل و غارت کی طرف لے جاتی ہے۔‘

اس موقعے پر شیعہ اور سنّی مسلمانوں نے ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر نماز ادا کی اور ان میں کویت کے امیر شيخ صباح الاحمد الجابر الصباح بھی شامل تھے۔

شیعہ مسلمان اور رکن پارلیمان عدنان عبدالصمد کے مطابق:’ یہ نماز اتحاد کی نماز ہے۔‘

’اس قابل نفرت جرم کی وجہ سے ہم اور زیادہ مضبوط ہوئے ہیں اور برداشت پیدا ہوئی ہے۔ اللہ کا شکر کہ ہمارے دشمن بے وقوف بن گئے، وہ کسی وہم میں تھے کہ اس جرم کی وجہ سے وہ اختلاف پیدا کر سکیں گے۔‘

کویت میں مسجد پر خودکش حملے کے ایک ہفتے بعد جمعے کو سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور درجنوں افراد کو حراست میں لیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خودکش دھماکے میں کم سے کم 27 افراد ہلاک اور 227 زخمی ہو گئے تھے

خیال رہے کہ خطے میں کویت ان ممالک میں شامل ہے جہاں شیعہ مسلمان تعداد میں خاصے زیادہ ہیں لیکن وہاں سعودی عرب اور بحرین کی طرح فرقہ وارانہ ٹکراؤ ابھر کر سامنے نہیں آیا۔

مسجد پر خودکش حملے کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی اتفاق قائم رکھنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

رواں ہفتے ٹوئٹر پر عربی میں ہیش ٹیگ onerank# کو حملے کے بعد دس ہزار بار استعمال کیا گیا ہے اور اس ہیش ٹیگ کا مقصد تھا کہ کویتی شہریوں کو فوج کی طرح متحد ہو کر دہشت گردی کو شکست دینا چاہیے۔

hamedalbader@نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ’ دہشت گردی کا کوئی مذہب اور نہ ہی کوئی شہریت ہوتی ہے تو آئیں جرائم کی سرگرمیوں سے خود کو منسوب نہ کریں کیونکہ یہ معاشرے کے بعض حلقوں کے لیے ہے اور ہم اپنا غصہ ان پر نکالیں۔‘

اسی بارے میں