شیمپین کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دے دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس میں واقع برگنڈی کے مقام پر واقع انگوروں کے باغات کو بھی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کی جانب سے شیمپین تیار کرنے والی صنعت کو عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دے دیا گیا ہے۔

یونیسکو نے فیصلہ کیا ہے کہ فرانس میں واقع انگوروں کے باغات، تہہ خانے، گودام اور وہ مقامات جہاں شیمپین تیار کی تیاری اور فروخت کی جاتی تھی ثقافتی اہمیت کے حامل ہیں۔

اس کا فیصلہ جرمنی میں سنیچر کو یونیسکو کے ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں دنیا بھر میں گیارہ مقامات کو عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دیا گیا۔

یونسیکو کا کہنا ہے کہ شیمپین کی تیاری بہت ہی خاص ہنرمندانہ عمل تھا جس کے بنا پر یہ زرعی و صنعتی شعبہ بن گیا ہے۔

عالمی ورثہ قرار دیے جانے والے جانے سے مالی امداد اضافہ اور سیاحت کے فروغ میں مدد بھی مل سکتی ہے۔

واضح رہے کہ عالمی ثقافتی ورثے میں پیرو میں ماچو پکچو کے کھنڈرات، بھارت کا تاج محل اور چین میں واقع دیوار چین جیسے مقامات شامل ہیں۔

فرانس میں واقع برگنڈی کے مقام پر واقع انگوروں کے باغات کو بھی سنیچر کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

اس فہرست میں شامل کیے گئے دیگر مقامات میں سنگاپور کے باٹینک گاڑڈنز، ترکی میں دیارباقر قلعہ اور ایران میں میمند کے غاروں میں واقع مکانات شامل ہیں۔

واضح رہے کہ مئی میں شام میں عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے جانے والے پیلمائرہ کے کھنڈرات پر نام نہاد دولت اسلامیہ نے قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد یہ تنقید بھی کی گئی کہ عالمی ثقافتی ورثہ ہونے کے باوجود اس کا تحفظ نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں