فیدل کاسترو ایک مرتبہ پھر منظر عام پر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کاسترو شاذ و نادر ہی منظرِ عام پر آتے ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں بھی کیوبا کی حکومت کافی رازداری سے کام لیتی ہے

کیوبا کے سرکاری ٹی وی پر سابق سربراہ فیدل کاسترو ایک ماہ کے بعد منظرِعام پر آئے ہیں۔

سرکاری ٹی وی پر کاسترو کی تصاویر دکھائی گئی ہیں جن میں ان کو ملک کے دارالحکومت ہوانا کے قریب ایک اجلاس میں پنیر کے ماہرین سے ملتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 88 سالہ فیدل کاسترو نے خرابیِ صحت کے باعث سنہ 2006 میں اقتدار اپنے چھوٹے بھائی راؤل کاسترو کو منتقل کردیا تھا۔

اس بار کاسترو کیوبا اور امریکہ کی جانب سے ایک دوسرے کے ہاں سفارتخانے 20 جولائی کو دوبار کھولنے کے اعلان کے چند روز بعد منظرِ عام پر آئے ہیں۔

کاسترو شاذ و نادر ہی منظرِ عام پر آتے ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں بھی کیوبا کی حکومت کافی رازداری سے کام لیتی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے سامنے آنے پر ذرائع ابلاغ کافی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

سرد جنگ کے زمانے سے ایک دوسرے کے دشمن رہنے والے کیوبا اور امریکہ کے درمیان صلح کا تاریخی اعلان صدر اوباما اور راول کاسترو نے گزشتہ برس ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا تھا۔

تاہم اس بارے میں فیدل کاسٹرو نے کوئی بیان نہیں دیا تھا اور تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اگر فیدل کاسترو اقتدار میں رہتے تو دونوں ممالک کے درمیان حالات بہتر نہیں ہوسکتے تھے۔

لیکن مشترکہ پریس کانفرنس کے ایک ماہ بعد کمیونسٹ پارٹی کے اخبار میں شائع ہونے والے کاسترو کے خط میں ان کا کہنا تھا کہ ’ میں امریکہ کی پالیسیوں پر اعتبار نہیں کرتا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں تنازعات کا پر امن حل نہیں چاہتا۔‘

یاد رہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات سنہ 1960 سے سرد مہری کا شکار ہیں جب امریکہ نے کیوبا پر تجارتی پابندیاں لگائیں تھیں۔

اسی بارے میں