یونان میں ووٹنگ جاری، ’یورپ شاید ہنگامی قرضے فراہم کر دے‘

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption یونان میں مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے سے ووٹنگ شروع ہو گئی

یونان میں معاشی بحران کے حل کے لیے بیل آؤٹ پیکج کی شرائط پر ریفرینڈم میں ووٹنگ جاری ہے جبکہ یورپی پارلیمان کے صدر مارٹن شیلز نے کہا ہے کہ ریفرینڈم کے نتائج چاہے کچھ بھی ہوں، یورپ یونانیوں کو ’بے یارومددگار‘ نہیں چھوڑے گا۔

اتوار کو یورپی پارلیمان کے صدر نے کہا کہ ممکن ہے کہ یورپ یونان کو ہنگامی قرضے فراہم کر دے۔

یورپی پارلیمان کے سربراہ مارٹن شلز نے جرمنی کے اخبار کو بتایا کہ ایتھنز کی حکومت قرضوں پر انحصار کرنے والے ملک کو ’بند گلی میں لے آئی ہے اور ممکن ہے کہ ہم انھیں ہنگامی قرضے جاری کر دیں تاکہ یونانی حکومت عوامی خدمات جاری رکھ سکے اور ضرورت مند افراد کا گذر بسر ہو سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ ان کاموں کے لیے برسلز قلیل مدت کے لیے رقم دے سکتا ہے۔‘

تاہم یورپی پارلیمان کے صدر نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے۔

یورپی پارلیمان کے صدر کی جانب سے ہنگامی قرضے کی فراہمی کا بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب یونانی اور یورپی یونین کے درمیان مذاکرت کی ناکامی کے بعد تجویز کی گئی شرائط پر ریفرینڈم میں ووٹنگ جاری ہے۔

ریفرینڈم کے لیے پولنگ سٹیشن مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے یعنی گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح چار بجے کھل گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونان میں معاشی بیل آؤٹ پیکج پر ریفرینڈم میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں

ریفرینڈم کے پہلے نتائج شام تک آنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل ہفتے بھر کی سرگرم مہم کے نتیجے میں جمعے کو زبردست ریلیاں نظر آئیں۔

یونان میں بائیں بازو کی سخت گیر جماعت کی حکومت نے عوام سے قرض خواہوں کی شرائط کو مسترد کرنے یعنی ’نہیں‘ کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی۔

دوسری جانب یورپی یونین کے رہنماؤں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ریفرینڈم میں ’نہیں‘ کی جیت ہوتی ہے تو یونان یورو زون سے نکل جائے گا۔

یونان کے وزیر خزانہ یانس واروفاکس نے سنیچر کو مقامی میڈیا کو بتایا کہ یورپی یونین کے پاس یونان کو یوروزون سے نکالنے کا ’کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔‘

انھوں نے ریفرینڈم سے ایک دن قبل ایتھنس کو قرض دینے والوں پر ’ خوف و ہراس‘ پیدا کرنے کا الزام عائد کیا۔

سپین کے اخبار ’ال منڈو‘ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یونان کو قرض دینے والے بین الاقوامی قرض خواہ ’لوگوں کے دلوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا چاہتے ہیں۔‘

Image caption جمعے کو یونانی باشندوں نے حمایت اور مخالفت میں دارالحکومت میں جلوس نکالے

وزیر خزانہ نے کہا ’انھوں نے ہمیں ہمارے بینک بند کرنے کے لیے کیوں مجبور کیا؟ لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے، خوف و ہراس پھیلانا دہشت گردی کہلاتا ہے۔‘

یونان کے بیل آؤٹ پیکیج پر ریفرینڈم سے پہلے دارالحکومت ایتھنز میں جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب کو ہزاروں افراد نے شرائط کے حق اور اس کی مخالفت میں جلوس نکالے۔

ملک کی اعلیٰ عدالت نے ریفرینڈم کے خلاف دائر کی جانے والی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور دارالحکومت میں ریفرینڈم میں قرض خواہوں کے حق اور مخالفت میں ہزاروں افراد دو مختلف مقامات پر اکٹھا ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption منگل کے بعد سے یونان میں بینک بند ہیں اور کیش نکالنے پر حد قائم کی گئي ہے

شرائط کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کی نفی کرنے والوں سے جھڑپ ہوئی جس پر پولیس نے قابو پا لیا۔

اس سے پہلے یونان کے وزیراعظم ایلکسس تسیپراس نے عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیل آؤٹ کے لیے اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم میں ’بلیک میلنگ‘ کو مسترد کر دیں۔

دریں اثنا جرمنی کے وزیر خزانہ وولف گینگ شاؤبل جو یونان کے سخت ناقد ہیں نے کہا ہے کہ اگر یونان کو یوروزون چھوڑنا پڑا تو یہ عارضی ہو سکتا ہے۔

انھوں نے جرمن اخبار بلڈ کو بتایا ’یونان یوروزون کا رکن ملک ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے۔ کیا وہ یورو کے ساتھ رہیں گے یا پھر عارضی طور پر اس کے بغیر اس بارے میں صرف یونانی فیصلہ کر سکتے ہیں اور یہ واضح ہے کہ ہم عوام کو مصیبت میں نہیں چھوڑ سکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت نے ریفرینڈم میں نہیں کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی ہے

خیال رہے کہ یورپیئن کمیشن، آئی ایم ایف اور یورپیئن سینٹرل بینک کے ساتھ یونان کے حالیہ بیل آؤٹ پروگرام کی آخری مدت گذشتہ منگل کو ختم ہوئی جس کے بعد پورے ہفتے بینک بند رہے اور رقم نکالنے پر ایک حد قائم کر دی گئی۔

یونان کے وزیر خزانہ یانس واروفاکس کا کہنا ہے کہ ریفرینڈم کا نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو منگل سے بینک کھل جائیں گے اور وزیر اعظم ایلکسس تسیپراس ریفرینڈم میں ’نو کی جیت‘ کے بعد بھی قرض خواہوں کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے اہل ہوں گے۔

اسی بارے میں