’گناہ سے پاک‘ فیس بک میں سینکڑوں کی دلچسپی

تصویر کے کاپی رائٹ facegloria
Image caption ’فیس گلوریا‘ خود کو گالی کلوچ اور فحاشی مواد سے پاک سوشل نیٹ ورک کہلاتا ہے

برازیل میں عیسائیوں کی ایک تبلیغی تنظیم نے سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے جس میں گالیاں دینے پر پابندی ہے اور نہ ہی وہاں کسی قسم کا ’شہوت انگیز‘ مواد ہے۔

’فیس گلوریا‘ کے بانیوں کا دعویٰ ہے کہ ان کی سائٹ نے پہلے ایک ماہ میں ایک لاکھ ارکان بنائے ہیں۔

نیٹ ورک سائٹ پر 600 ایسے الفاظ ہیں جن کا استعمال کرنا منع ہے اور ایک ’آمین‘ کا بٹن بھی ہے جو کسی پوسٹ کی تعریف کے اظہار کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اسی طرح مسلمانوں کے لیے قائم کیا گیا ’امہ لینڈ‘ نامی سوشل نیٹ ورک 2013 میں شروع ہوا تھا۔ اُس کے اب تک تقریباً تین لاکھ 29 ہزار ارکان ہیں۔ اس میں عورتوں کے لیے ’وسیع انفرادی سیٹنگز‘ اور روز مرہ استعمال ہونے والے اسلامی اقوال موجود ہیں۔

امہ لینڈ کے بانی معروف یسوپوو اور جمال الدین یون نے اپنی ویب سائٹ لانچ ہونے کے کچھ عرصے بعد ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ہم نے امہ لینڈ اسلامی اقدار کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائی ہے، کوئی چغلی نہیں کوئی غیبت نہیں، کوئی فخر نہیں اور کوئی فضول بات نہیں بلکہ جو پیغام ضروری ہے اسی پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے۔‘

برازیل کی فیس گلوریا اس وقت صرف پرتگالی زبان میں دستیاب ہے لیکن اسے دیگر زبانوں میں متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ موبائل ایپلیکشن بھی بنائی جائیں گی۔

دنیا میں سب سے زیادہ رومن کیتھولک آبادی برازیل میں ہے اور ملک کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق صرف ایک فیصد آبادی خدا پر یقین نہیں رکھتی یا لامذہب ہے۔

ویب ڈیزائنر آتلا باروس کا کہنا ہے کہ ’فیس بک پر آپ کو بہت تشدد آمیز اور فحش مواد دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے ہم نے یہ نیٹ ورک بنانے کا سوچا، جہاں ہم خدا اور محبت کی بات کریں اور خدا کے پیغامات پھیلا سکیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’اس ویب سائٹ پر ہم جنس پرستی سے متعلق مواد پر بھی پابندی ہے۔‘

آتلا باروس اور ان کے تین ساتھی دفتر میں کام کر رہے تھے جب انھیں اس سماجی نیٹ ورک کا خیال آیا۔ تب سے انھوں نے اس ویب سائٹ کے لیے 16 ہزار ڈالر خرچ کیے ہیں۔

انھوں نے کہا ’ہمارا نیٹ ورک عالمی ہے۔ ہم نے فیس گلوریا کا انگلش ڈومین تیار کیا ہے۔ ہم ٹوئٹر اور فیس بک کا مقابلہ یہاں اور ہر جگہ کریں گے۔‘

پروگرامر جان گراہم کمنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’مذہب اور ٹیکنالوجی کا اکثر ملاپ ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں