’قرض دہندگان کی شرائط پورا کرنے کے لیے پراعتماد ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سٹرازبرگ میں یورپی پارلیمان میں اس وقت یونان کے مسئلے پر بحث کی جا رہی ہے

یونانی وزیر اعظم ایلکسس تسیپراس نے یورپین پارلیمان سے کہا ہے کہ قرضوں کے بحران کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے تفصیلی تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔

بدھ کو یورپین پارلیمان سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ وہ غیر ملکی قرض دہندگان کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے پراعتماد ہیں۔

سٹرازبرگ میں یورپیئن پارلیمان میں اس وقت یونان کے مسئلے پر بحث کی جا رہی ہے۔

اس سے قبل یوروزون کے رکن ملکوں نے یونان کو اپنے قرض خواہوں کے ساتھ معاہدے کے لیے نئی تجاویز پیش کرنے کے لیے جمعرات تک کی مہلت دی تھی اور اتوار کو یورپی یونین کا سربراہ اجلاس طلب کر لیا ہے۔

یورو زون کے رکن ملکوں کے رہنماوں کا منگل کو برسلز میں ایک ہنگامی سربراہی اجلاس ہوا جس کے بعد یہ پیش رفت ہوئی ہے۔

برسلز میں ہنگامی اجلاس کے بعد یورپیئن کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کا کہنا تھا کہ ’یہ یورو زون کی تاریخ کا سب سے نازک لمحہ ہے اور حتمی مہلت اس ہفتے کے آخر تک ختم ہو جائے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

یونان کے عوام کی طرف سے مجوزہ ’بیل آوٹ‘ کو ریفرینڈم کے ذریعے رد کرنے کے بعد یورو زون نے یونان کو نئی تجاویز پیش کرنے کے لیے کہا تھا۔

لیکن یونان کی طرف سے تحریری شکل میں کوئی تجویز سامنے نہیں آئی بلکہ اس نے پہلے سے پیش کردہ مسودے میں معمولی سی تبدیلیاں کرنے کا کہا جو ریفرنڈم میں کیے گئے فیصلے سے مطابقت رکھتی تھیں۔

اتوار کو یورپی یونین کے 28 ملکوں کا سربراہی اجلاس ہو گا۔

یورپین یونین کے اکنامک کمشنر پیئر ماسکوویچی نے فرانسیسی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یونان کے ساتھ معاہدہ ناگزیر ہے اور یورو زون سے یونان کے نکلنے کو ہر ممکن طریقے سے روکنا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فیصلہ اب یونان کے ہاتھ میں ہے۔‘

پیئر ماسکوویچی کے خیال میں یونانی حکومت اب بھی یورو زون میں رہنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یورو زون جامع، قابل اعتماد، مکمل اور حقیقی اصلاحات دیکھنے کا منتظر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت مشکل ہے لیکن معاہدہ اب بھی ممکن اور پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ یونان کا یورو زون سے نکل جانا ایک بہت بڑی ناکامی اور اجتماعی غلطی ہو گی ہم سب اسے روکنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ ’یہ صرف یونان کا ہی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یورپیئن یونین کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ یوروزون کے سربراہوں نے برسلز میں بڑی سنجیدگی سے اور کھل کر اس مسئلے پر بات کی جو صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ظاہر ہے کہ یورو زون کے ملک یونان کے عوامی ریفرینڈم کا احترام کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یورپی یونیئن کی بھی ذمہ داری ان پر مشترکہ طور پر عائد ہوتی ہے۔

اطالوی وزیر اعظم ماتیو رینتسی نے کہا کہ یونان کے وزیر اعظم ایلکسس تسیپراس نیک نیتی سے دانش مندانہ تجاویز پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ قرضوں کے بحران کو حل کیا جا سکے۔

اسی بارے میں