’ایران کےساتھ مذاکرات ڈیڈلائن کے بعد بھی جاری رہیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایک ایرانی اخبار کے مطابق معاہدے کے متن سمیت پانچ میں سے چار اضافی کاغذات (اینکسچر) پر اتفاق ہوگیا ہے

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیدریکا موگیرینی نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ایرن اور چھ عالمی طاقتوں کے مابین جاری مذاکرات ڈیڈ لائن کےگزرنے کے ’چند روز‘ بعد تک جاری رہیں گے۔

چھ عالمی طاقتوں اور ایران کے مابین مذاکرات کو منگل کی رات بارہ بجے تک ختم ہونا تھا لیکن اب مذاکرات کی ڈیڈ لائن کے بعد بھی جاری رہیں گے۔

منگل کی صبح مذکرات کےلیے ہوٹل پہنچتے وقت دونوں جانب سے مذاکرات کاروں کا کہنا تھا کہ معاہدہ ’اب پہنچ میں ہے۔‘

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں جاری مذاکرات میں گذشتہ شب مختلف ممالک کے سفیر رات گئے تک مختلف معاملات پر غور کرتے رہے اور حتمی معاہدے کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کوشاں رہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی جوہری پروگرام پر ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں جن میں گذشتہ منگل کی ڈیڈلائن تک اتفاق رائے نہ ہونے پر ایک ہفتے کی توسیع کر دی گئی تھی۔

مذاکرات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین امریکہ ، روس ، چین ، فرانس، اور برطانیہ کےساتھ جرمنی ایرانی جوہری پروگرام کو اِس حد تک محدود کرنے کے لیے کسی سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں تاکہ ایران کے لیے جوہری ہتھیاروں کا حصول ناممکن بنایا جا سکے۔

ایران کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران عالمی طاقتوں سے معاہدے کی صورت پر اپنے پر عائد اقتصادی پابندیوں کا فوری خاتمہ چاہتا ہے جن کی وجہ سے اُس کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ابھی تک دونوں فریق اِس پر متفق نہیں ہو سکے ہیں کہ ایران کو کتنی جوہری سرگرمیوں کی اجازت دی جائے اور اُس پر عائد پابندیاں کب اٹھائی جائیں گی۔

جمعے کے روز ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا تھا کہ اُن کا ملک سمجھوتے کےلیے تیار ہے اور مذاکرات کار کبھی بھی معاہدے کے اتنے قریب نہیں پہنچے ۔ لیکن ساتھ ہی ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے مذاکرات میں دھونس اور دباؤ کے ہتھکنڈے ختم کرنے پر بھی زور دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران کے تمام ریاستی امور میں رہبرِ اعلٰی آیت اللہ خامنہ ای کو حتمی فیصلے کا اختیار حاصل ہے

ایک ایرانی اخبار کے مطابق معاہدے کے متن سمیت پانچ میں سے چار کاغذاتِ منسلکہ (اینکسچر) پر اتفاق ہوگیا ہے۔ تاہم جوہری تحقیق کی حد اور جوہری تنصیبات کی نگرانی کے حوالے سے اب تک اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا ہے۔

پیر کو ایک اہم ایرانی اہلکار کا کہنا تھا تہران کے مطالبات میں روایتی ہتھیاروں اور بلاسٹک میزائلو ں کی درآمد و برآمد پر غیر مشروط طور پر پابندی منسوخ کر دی جائے۔

ایران کے تمام ریاستی امور میں رہبرِ اعلٰی آیت اللہ خامنہ ای کو حتمی فیصلے کا اختیار حاصل ہے۔ انھوں نے گذشتہ ہفتے مغربی ملکوں کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا ایران صرف اُسی صورت میں اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرے گا جب اُس پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں گی۔

ادھر ایران پر عائد امریکی پابندیوں کے خاتمے سے پہلے ویانا میں ہونے والے کسی بھی ممکنہ سمجھوتے کو امریکی کانگریس کی منظوری کے لیے بھی پیش کیا جائےگا۔

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری چاہتے ہیں کہ یہ معاہدہ منگل کے روز ہی طے پا جائے تاکہ جمعرات کو امریکی کانگریس کے سامنے رکھا جا سکے۔ جمعرات کے بعد اس معاہدے کی توثیق کے لیے 30 کے بجائے 60 روز لگیں گے۔

اسی بارے میں