لندن حملوں کے دس سال مکمل، یاد میں ایک منٹ کی خاموشی

منگل کے روز لندن بم حملوں کی دسویں برسی کےموقع پر حملوں میں ہلاک ہونے والے 52 افراد کی یاد میں ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

برطانوی وقت کے مطابق ٹھیک 11:30 منٹ پر ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

بم حملوں کی دسیویں برسی کے موقع پر میں لندن کے سینٹ پال کیتھیڈرل میں ایک یادگاری تقریب جاری ہے۔ جس میں ہلاک ہونے والے افراد کے اہلخانہ اور حملے میں زخمی ہونے والے افراد شریک ہیں۔

یاد رہے کہ ان حملوں میں القاعدہ سے منسلک چار خودکش بمبار ملوث تھے اور یہ برطانیہ کی تاریخ کا بدترین دہشت گرد حملہ تھا۔

سات جولائی 2005 کو آٹھ بج کے 50 منٹ پر لندن کے زیر زمین ٹرین سسٹم میں تین دھماکے ہوئے۔ تقريباً ایک گھنٹے بعد لندن کی ایک دو منزلہ بس میں چوتھا دھماکہ ہو گیا۔ ان حملوں میں ہلاکتوں کی کل تعداد 52 تھی اور 700 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ لندن حملوں کے ٹھیک دس سال بعد دہشت گردوں سے خطرہ اب بھی ایک حقیقت ہے اور گذشتہ ہفتے تیونس میں ہونے والے 30 برطانوی شہریوں کا قتل اس بات کی تلخ نشانی ہے۔

سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا کہ اسلامی شدت پسندوں سے خطرہ دس سال کے بعد کم نہیں بلکہ زیادہ ہوا ہے۔

لندن کے میئر بورس جونسن نے کہا کہ دہشت گرد اپنے مقصد میں نا کام ہو گئے ہیں کیونکہ لندن آج بھی دنیا کے کونے کونے سے لوگوں کو خوش آمدید کہتا ہے جو اس شہر کی سب سے بڑی خاصیت ہے۔

ایک منٹ کی خاموشی لندن کے ٹرین نیٹ ورک پر بھی اختیار کی گئی اور مقررہ وقت پر تمام ٹرینیں روک دی گئیں۔

ادھر سینٹ پال کیتھیڈرل میں ایک منٹ کی خاموشی کے اختتام پر عمارت کے گنبد سے پھولوں کی پتیاں گرائی گئیں اور چاروں حملوں کے لیے چار علامتی شعمیں روشن کی گئیں۔

گذشتہ برسوں کی طرح یہ برسی بھی ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے تکلیف دہ ہے۔

اپنے بیٹے کو کھونے والی ایک ماں کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد انھیں ایسا لگا کہ ’دنیا سے ساری رنگینیاں ختم ہو گئی ہیں۔‘

متاثرہ خاندانوں کو سینٹ پال کیتھیڈرل میں تقریب کے بعد ہائیڈ پارک میں ایک نسبتاً کم پر تکلف تقریب پر بھی بلایا گیا ہے جہاں برطانوی شاہی خاندان کے افراد بھی موجود ہوں گے۔

Image caption یہ برسی ان لوگوں کے لیے تکلیف دہ یادیں لے کر آئے گی جن کے عزیز آج سے دس برس پہلے ان حملوں میں ہلاک ہوئے تھے

تقریب سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے میٹرو پولیٹن پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر مارک راولی نے کہا کہ عراق میں دولتِ اسلامیہ کے عروج کے بعد برطانیہ کو اب شدت پسندوں سے ایک ’بہت مختلف قسم‘ کا خطرہ ہے۔

انھوں نے کہا: ’ہم نے گذشتہ کچھ برسوں میں دہشت گردوں کے عالمی نیٹ ورک کے انتظامی ڈھانچے میں کافی تبدیلیاں دیکھی ہیں۔‘

اگست 2014 میں برطانوی حساس اداروں نے ملک میں تھریٹ لیول یا دہشتگرد حملے کے خدشے کی سطح کو ’ٹھوس‘ سے بڑھا کر ’شدید‘ قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں