یونان میں بینکوں کی بندش میں توسیع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تسیپراس کا کہنا تھا کہ تجاویز پر کام کیا گیا ہے لیکن وہ انھوں نے ان کی تفصیلات فراہم نہیں کیں

یونان کی حکومت نے بینکوں کی بندش اور کھاتاداروں پر یومیہ 60 یورو تک کی رقم اے ٹی ایم مشینوں سے نکالنے کی پابندی کی مدت بڑھا دی ہے۔

یہ پابندیاں جون کی اٹھائیس تاریخ کو اس وقت لگائی گئی تھیں جب یونان کے اپنے قرض خواہوں کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے اور کھاتا داروں کا بینکوں پر رش لگ گیا تھا۔

یورپ کے مرکزی بینک نے یونان کے بینکوں کو اس وقت تک مزید مدد فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا جب تک یونان اپنے قرضے خواہوں کے ساتھ قرضہ اتارنے کے بارے میں کسی نئے سمجھوتے پر نہیں پہنچ جاتا۔

یونانی وزیر اعظم الیکسس تسیپراس نے کہا ہے کہ وہ جمعرات سے پہلے ’قابل یقین‘ اصلاحات کا منصوبہ پیش کریں گے۔ یورو زون کے ملکوں نے یونان کو نئی تجاویز پیش کرنے کے لیےجعمرات تک کی مہلت دے رکھی ہے۔

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ یہ یورو زون کی تاریخ میں سب سے نازک لمحہ ہے۔ یورپی یونین میں شامل 28 ملکوں کا اجلاس اتوار کو طلب کر لیا گیا ہے جس میں یورو زون میں شامل 19 ملک بھی شامل ہیں۔

یونان کو دیوالیہ ہونے اور یورو زون سے باہر ہونے سے بچنے کے لیے تیسرے ’بیل آوٹ‘ پیکج کی اشد ضرورت ہے۔

یونان کی وزارتِ خزانہ نے بدھ کی رات گئِے بینکوں کی چھٹی کو جولائی کی31 تاریخ تک بڑھانے کا اعلان کیا۔

قبل ازیں یونان کی یورو زون میں رہنے کی کوششوں کے تناظر میں وزیراعظم ایلکسس تسیپراس نے یورپی یونین سے یورپ کو تقسیم ہونے سے بچانے کی اپیل کی تھی۔

یورپیئن پارلیمان میں ایک دھواں دار بحث کے دوران ایلکسس تسیپراس کا کہنا تھا کہ ’آئیں یورپ کو تقسیم ہونے نہ دیں۔‘

یونان کو اپنے قرض خواہوں کے ساتھ معاہدے کے لیے نئی تجاویز اتوار کو ہونے والے یورپی یونین کے اجلاس سے قبل ہر صورت جمعرات تک پیش کرنی ہیں۔

تسیپراس کا کہنا تھا کہ تجاویز پر کام کیا گیا ہے، البتہ وہ تفصیلات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔

یونانی وزیراعظم نے کہا کہ وہ پراعتماد ہیں کہ آئندہ چند دنوں میں یونان اپنے اور یورو زون کے مفاد میں شرائط پورا کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

انھوں نے پارلیمان سے کہا کہ ’یہ ہم سب کو ماننا پڑے گا کہ گذشتہ اصلاحات کا یہ تجربہ کامیاب نہیں ہو سکا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’یونانی عوام اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کی گنتی کی گئی ہے اور وہ جو کہہ رہے ہیں وہ ہمیں سننا پڑے گا۔‘

اس سے قبل یورو زون کے رکن ملکوں نے یونان کو اپنے قرض خواہوں کے ساتھ معاہدے کے لیے نئی تجاویز پیش کرنے کے لیے جمعرات تک کی مہلت دی تھی اور اتوار کو یورپی یونین کا سربراہی اجلاس طلب کیا تھا۔

یورو زون کے رکن ملکوں کے رہنماؤں کا منگل کو برسلز میں ایک ہنگامی سربراہی اجلاس ہوا جس کے بعد یہ پیش رفت ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیئر ماسکوویچی کا کہنا ہے کہ فیصلہ اب یونان کے ہاتھ میں ہے

یونان کے عوام کی طرف سے مجوزہ ’بیل آوٹ‘ کو ریفرینڈم کے ذریعے رد کرنے کے بعد یورو زون نے یونان کو نئی تجاویز پیش کرنے کے لیے کہا تھا۔

لیکن یونان کی طرف سے تحریری شکل میں کوئی تجویز سامنے نہیں آئی بلکہ اس نے پہلے سے پیش کردہ مسودے میں معمولی سی تبدیلیاں کرنے کا کہا جو ریفرینڈم میں کیے گئے فیصلے سے مطابقت رکھتی تھیں۔

یورپیین یونین کے اکنامک کمشنر پیئر ماسکوویسی نے فرانسیسی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یونان کے ساتھ معاہدہ ناگزیر ہے اور یورو زون سے یونان کے نکلنے کو ہر ممکن طریقے سے روکنا چاہیے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’فیصلہ اب یونان کے ہاتھ میں ہے۔‘

پیئر ماسکوویسی کے خیال میں یونانی حکومت اب بھی یورو زون میں رہنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یورو زون جامع، قابل اعتماد، مکمل اور حقیقی اصلاحات دیکھنے کا منتظر ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ بہت مشکل ہے لیکن معاہدہ اب بھی ممکن اور پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ یونان کا یورو زون سے نکل جانا ایک بہت بڑی ناکامی اور اجتماعی غلطی ہو گی ہم سب اسے روکنے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے کہا کہ ’یہ صرف یونان کا ہی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یورپیئن یونین کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔‘

اسی بارے میں