قتل عام میں ملوث 24 افراد کو موت کی سزا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تکریت میں ہلاک کیے جانے والے 1700 فوجیوں میں اکثریت شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والوں کی تھی

عراق میں ایک عدالت نے اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کھلانے والے گروپ کے 24 مشتبہ ارکان کو سینکڑوں عراقی فوجیوں کو سنہ 2014 میں ہلاک کیے جانے کے واقعہ میں ملوث ہونے کے الزام میں موت کی سزا سنائی ہے۔

عراقی شہر تکریت کے قریب سپائکر کے فوجی اڈے پر قبضے کے بعد 1700 فوجیوں کو جن میں اکثریت شیعہ رنگروٹوں کی تھی ہلاک کر دیا گیا تھا۔

دولت اسلامیہ گروپ کی طرف سے اس واقعے کی ویڈیو اور تصاویر انٹر نیٹ پر جاری کی گئی تھیں۔

عراقی حکومت نے اس سال مارچ میں تکریت سے جہادیوں کو پسپا کرنے کے بعد درجنوں لوگوں کو اس واقعے میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا تھا۔

فورنزک ماہرین کی ٹیموں نے علاقے میں ایک اجتماعی قبر سے ہلاک ہونے والوں کی لاشیں نکال کر تحقیقات شروع کر دی تھیں۔ ابھی تک چار مختلف اجتماعی قبروں سے 470 افراد کی لاشیں نکالی جا سکیں ہیں۔

بغداد کی عدالت نے جن 24 افراد کو پھانسی کی سزا سنائی ان پر دہشت گرد گروہ کا رکن ہونے اور فوجیوں کو ہلاک کرنے کا جرم ثابت ہو گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تمام کے تمام مجرموں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح کے کسی قتل عام میں ملوث نہیں تھے۔

’دولت اسلامیہ‘ نے تکریت میں گرفتار ہونے والے فوجیوں کو ہلاک کرنے سے پہلے ان کی فلم بنائی تھی۔

مجرم قرار دیے جانے والوں کا کہنا تھا کہ ان پر تشدد کر کے ان سے اعترافی بیانات لیے گئے ہیں۔

مقدمے کی سماعت شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد ہی ملزمان کو مجرم قرار دے کر انھیں سزا سنائی دی گئی۔ عراق کی سپریم جوڈیشل کونسل کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ملزموں کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود تھے۔

علی عبدل حمزا نے غیر ملکی خبررساں اداروں کے نمائندوں کو بتایا کہ مجرموں کو سخت سزا ملنے پر وہ مطمئن ہیں۔ علی عبدل حمزا کے بھائی بھی تکریت میں ہلاک کیے جانے والے فوجیوں میں شامل تھے۔

اس فیصلے کی توثیق کے لیے اسے ایک مہینے کے اندر اعلی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

عدلیہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ فوجیوں کو ہلاک کیے جانے کے اس واقعے میں چھ سو چار مزید ملزمان مفرور ہیں۔

اسی بارے میں