’شدت پسندوں کو روکنے کے لیے دیوار‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حکومت نے پہلے ہی سے سکیورٹی سخت کردی ہے اور ہوٹلوں اور ساحلوں پر 1400 مسلح اہلکار تعینات کر دیے ہیں

تیونس نے اعلان کیا ہے کہ لیبیا سے جہادیوں کی تیونس میں آمد کو روکنے کے لیے لیبیا کی سرحد کے ساتھ دیوار تعمیر کی جائے گی۔

تیونس کے وزیر اعظم نے سرکاری ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ دیوار 160 کلومیٹر لمبی ہو گی اور اس کی تعمیر 2015 کے آخر تک مکمل ہو جائے گی۔

یاد رہے کہ سوسہ میں ہونے والے حملے میں حملہ آور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے لیبیا سے تربیت حاصل کی تھی۔

اس حملے میں 38 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس حملے کے بعد تیونس کی حکومت نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔

تیونس کے وزیر اعظم نے کہا: ’فوج یہ دیوار تعمیر کرے گی اور اس دیوار کے محضوص حصوں میں نگرانی کے لیے چوکیاں قائم کی جائیں گی۔‘

حکومت نے پہلے ہی سے سکیورٹی سخت کر دی ہے اور ہوٹلوں اور ساحلوں پر 1400 مسلح اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔

تیونس کے وزیر اعظم نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ حملہ آور نے ممکنہ طور پر لیبیا میں سرگرم تنظیم انصار الشریعہ سے تربیت حاصل کی تھی۔

اسی بارے میں