کرد جنگجوؤں نے رقہ کے قریبی قصبے پر ’دوبارہ قبضہ کر لیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption رقہ کے شمال میں تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ قصبہ سٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے

شام میں کرد جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ انھوں نےشدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے شہر رقہ کے قریبی قصبے عین عیسیٰ پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

شام کے شمال میں واقع عین عیسیٰ قصبے پر نام نہاد دولت اسلامیہ نے پیر کو قبضہ کر لیا تھا، تاہم کردش پاپولر پروٹیکشن یونٹ (وائی پی جی) کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے اس علاقے کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی مطابق وائی پی جی کو خواتین جنگجوؤں اور امریکی فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی۔

رقہ کے شمال میں تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع یہ قصبہ سٹریٹیجک اہمیت کا حامل ہے۔

یہ قصبہ رقہ شہر سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے زیرکنٹرول دیگر علاقوں مثلاً مغرب میں صوبہ حلب اور مشرق میں صوبہ حسکہ کو راستہ فراہم کرتا ہے۔

برطانیہ میں مقیم انسانی حقوق کی تنظیم سیرین اوبزرویٹری فار ہیومن رائیٹس نے عین عیسیٰ پر کرد جنگجوؤں کے قبضے کی تصدیق کی ہے۔

نام نہاد دولتِ اسلامیہ نے حالیہ ہفتوں میں کردوں کے خلاف متعدد جان لیوا حملے کیے ہیں۔

اس شدت پسند گروہ کو جنوری میں کوبانی شہر سے بے دخل کیے جانے کے بعد ترکی کی سرحد سے متصل علاقوں میں کئی محاذوں پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

اسی بارے میں