’اسرائیلی مغویوں کی سلامتی حماس کی ذمہ داری ہے‘

Image caption اوراہم گذشتہ سال غزہ کی 50 روزہ لڑائی کے دو ہفتے بعد سات ستمبر کو غیرقانونی طریقے سے غزہ پہنچے تھے

اسرائیلی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ غزہ میں دو اسرائیلی باشندوں کو یرغمال بنایا گیا ہے جن میں سے ایک کے بارے میں اسے معتبر خفیہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے قبضے میں ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ حماس ہی ان دونوں اسرائیلیوں کی سلامتی کی ذمہ دار ہے جبکہ حماس کی جانب سے اس الزام پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے ۔

ایک مغوی اسرائیلی کی شناخت بابرا اور اوراہم مینجستو کے نام سے کی گئی ہے اور اس کا آبائی وطن ایتھیوپیا بتایا گیا ہے۔

وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اوراہم گذشتہ سال غزہ کی 50 روزہ لڑائی کے دو ہفتے بعد سات ستمبر کو غیرقانونی طریقے سے غزہ پہنچے تھے جہاں انھیں حماس کے ارکان نے پکڑ لیا۔

خیال رہے کہ غزہ پر حماس کا کنٹرول ہے۔

اوراہم کی حماس کے قبضے میں ہونے کی خبر معلومات ظاہر نہ کرنے کے احکامات کی وجہ سے خفیہ رکھی گئی اور اب یہ حکم واپس لیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔

اسرائیلی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اوراہم کے علاوہ حماس نے ایک اور اسرائیلی عرب کو بھی پکڑ رکھا ہے تاہم اس شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے اس سلسلے میں جمعرات کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان دونوں اسرائیلیوں کی واپسی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی سلامتی حماس کی ذمہ داری ہے۔ میں نے اس معاملے پر تمام روابط کے لیے ایک نمائندہ مقرر کر دیا ہے۔‘

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ جیسے ہی اسرائیلی حکام کو اوراہم مینجستو کی باڑ عبور کر کے غزہ جانے کی خبر ملی اس وقت سے انھیں واپس لانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’میں غزہ میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتی رہنے والی عالمی برادری سے امید کرتا ہوں کہ وہ ان اسرائیلی شہریوں کی رہائی اور واپسی کے لیے واضح پیغام دے گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption غزہ پر فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کا کنٹرول ہے

یاد رہے کہ ایک گیلاد شالت نامی ایک اسرائیلی فوجی کو حماس نے پکڑ لیا تھا اور پانچ سال بعد 2011 میں اس کو رہا کیا گیا۔

اسرائیلی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اوراہم کے بارے میں معلومات دیں اور مطالبہ کیا ہے کہ اس کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

اسرائیلی صدر روون رولن کا کہنا ہے کہ یہ ایک افسوسناک صورتحال ہے اور وہ اوراہم کے خاندان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

انھوں نے کہا ’یہ ایک ہیومینیٹیریئن معاملہ ہے اور توقع ہے کہ جنھوں نے اس کو یرغمال بنا رکھا ہے وہ ٹھیک برتاؤ کریں گے اور صحیح سلامت رہا کریں گے۔‘

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہوا کہ 28 سالہ اوراہم کیوں غزہ گئے لیکن کہا جاتا ہے کہ ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں ہے۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی عرب جو غزہ میں یرغمال بنا لیا گیا ہے وہ اسرائیل کے صحرا النقب کا ایک بدو تھا۔ اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ وہ کئی بار غزہ جا چکا تھا۔

اسی بارے میں