یونان: ارکانِ پارلیمان نئے بیل آؤٹ منصوبے پر ووٹنگ کریں گے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اتحادی حکومت کو پارلیمان کی 300 نشستوں میں سے 162 نشستوں کے ساتھ ساتھ بہت سے حزب مخالف ارکان پارلیمان کی حمایت بھی حاصل ہے

یونان کے ارکان پارلیمان تیسری بار مالی امداد حاصل کرنے کے لیے وزیراعظم الیکسس تسپیراس کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے لیے ووٹنگ کریں گے۔

ان تجاویز کا مقصد معاشی بحران اور یورو زون سے ممکنہ طور پر نکالے جانے کو روکنا ہے۔

اصلاحات کے مسودے میں ٹیکسوں میں اضافہ اور پینشن میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

الیکسس تسپیراس کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کا یورو زون کے وزرائے خارجہ جائزہ لیں گے اور اتوار کو یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں بھی ان پر غور کیا جائےگا۔

یونانی وزیر اعظم کے اس نئے منصوبے میں بہت سے ایسے عناصر شامل ہیں جنھیں گذشتہ اتوار کو ہونے والے ریفرینڈم میں عوام نے رد کر دیا تھا۔

اس بات کے خاصے امکان ہیں کہ انھیں اپنی ہی جماعت سریزا کے اندر موجود بائیں بازو کے ارکان سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم سریزا کے ترجمان نیکوز فیلیس کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ارکان پارلیمان نئے بیل آؤٹ پیکیج پر مذاکرات کرنے کے لیے حکومت کو مینڈیٹ دیں گے۔

اتحادی حکومت کو پارلیمان کی 300 نشستوں میں سے اپنی جماعت کی 162 نشستوں کے علاوہ حزب مخالف کے بہت سے ارکان پارلیمان کی حمایت بھی حاصل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption الیکسس تسپیراس کی طرف سے پیش کردہ تجاویز کا یورو زون کے وزرائے خارجہ جائزہ لیں گے

چند دن قبل الیکسس تسپیراس نے یونانی عوام کی جانب سے بیل آؤٹ کی تمام یا چند شرائط کو رد کرنے کے لیے کیے گئے ریفرینڈم میں بھاری اکثریت سے مینڈیٹ حاصل کیا تھا۔

اور آج اس ووٹنگ کے بعد الیکسس تسپیراس ناپسندیدہ بیل آؤٹ پر دستخط کرنے جا رہے ہیں۔

اگر بینکوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی راستہ تلاش نہ کیا گیا تو یونان کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی اور اس ہفتے ہونے والا بیل آؤٹ کا معاہدہ چند دنوں میں ہی بے کار ہو جائے گا۔ اس دوران یورپیئن سینٹرل بینک کی مالی امداد ناکافی ہے۔

الیکسس تسپیراس نے پارلیمان میں بحث سے قبل اپنی سریزا پارٹی کا اجلاس طلب کیا تھا۔

ایک حکومتی عہدے دار نے وزیراعظم کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ ریفرینڈم سے انھیں بہتر معاہدہ کرنے کا مینڈیٹ ملا ہے، نہ کہ یورو زون کو چھوڑنے کا۔

یونانی وزیراعظم نے قرضے کے بارے میں کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے ملک میں اقتصادی اصلاحات کی نئی تجاویز یونان کے قرض دہندگان، یورپیئن کمیشن، یورپیئن سینٹر بینک اور آئی ایم ایف کے پاس جمع کرا دی ہیں۔

یونان کے توانائی کے وزیر نے جمعرات کو حکومت سے بیل آؤٹ پر رضامند نہ ہونے کی درخواست کی تھی۔ ان کے خیال میں ایسا کرنا ’اپنے ہی عوام کو لوٹنا اور زیر کرنا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونان کے بینک دو ہفتے سے بند ہیں اور بینکوں سے پیسے نکالنے کی حد بھی مقرر ہے

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ اتوار کے ریفرنڈم میں ملنے والے ’نہیں‘ کے ووٹ کو ’شرمناک ہاں‘ میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔

پانچ سال قبل یونانی کی معیشت کو بچانے کے منصوبے کے آغاز کے بعد سے دو بیل آؤٹ میں یونان کے قرض دہندگان کو دو سو ارب یوروز دیے گئے تھے۔

جبکہ تیسرے بیل آؤٹ کے لیے یونان اطلاعات کے مطابق 53.5 ارب یوروز کا طلب گار ہے اور ساتھ قرضوں کی شرائط میں بھی تبدیلی چاہتا ہے۔

یونان کے ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق اصلاحات کے مسودے میں ٹیکسوں میں اضافہ اور اخراجات میں کمی کی تجاویز کا کل حجم 12 ارب یورو ہے جو کہ ریفرینڈم میں رد کیے جانے والے اقدامات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

یونان کے بینک دو ہفتے سے بند ہیں اور بینکوں سے پیسے نکالنے کی حد بھی مقرر ہے۔

اسی بارے میں