عجلت نہیں مگرمعاہدے کے لیے لامحدود انتظار نہیں ہوگا: جان کیری

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر حتمی ڈیل طے پانے کے بعد امریکی کانگرس اس کا جائزہ لے گی

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ان کے ملک اور دیگر عالمی طاقتوں کو ایران کے جوہری معاملے پر کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوئی جلدی نہیں تاہم انھوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ مذاکرات میں شامل چھ عالمی طاقتیں اس کے لیے لامحدود وقت تک انتظار نہیں کریں گی۔

ویانا میں جاری مذاکرات کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں چند ہی گھنٹے رہ گئے ہیں تاہم فریقین کے درمیان ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد بھی مذاکرات جاری رکھنے پر پہلے ہی اتفاق رائے ہو چکا ہے۔

اصل ڈیڈ لائن کب؟

’حتمی ڈیل کے کبھی اتنے قریب نہیں تھے‘

دوسری جانب ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’ ہم سخت محنت کر رہے ہیں، لیکن اس کام کو کرنے کے لیے عجلت میں نہیں ہیں۔‘

خیال رہے کہ ویانا میں ہونے والے ان مذاکرات کا بنیادی نکتہ یہ بھی ہے کہ ایران پر عائد عالمی پابندیاں کس رفتار سے ختم کی جائیں گی۔

ڈیڈ لائن سے قبل معاہدہ نہ ہو سکا تو ایسے میں امریکی کانگرس طے پانے والے معاہدے پر جائزہ لینے کے لیے 30 کے بجائے 60 دن لے گی۔

’خطرناک وقت‘

Image caption جان کیری نے اعتراف کیا ہے کہ اب بھی بہت سے مشکل امور حل نہیں ہو سکے

جمعرات کو مذاکرات کے ایک نئے دور سے قبل ویانا میں صحافیوں سے گفتگو میں جان کیری نے کہا کہ ’ ہم یہاں اس یقین کے ساتھ موجود ہیں کہ ہم حقیقی معنوں میں پیش رفت کر رہے ہیں۔‘

مگر اپنے بیان میں انھوں نے یہ بھی وضاحت کر دی کہ اگر سخت فیصلےنہ ہوئے تو وہ مذاکرات ختم کرنے کے لیے بھی تیار ہیں اور مذاکرات کو لامحدود وقت کے لیے جاری نہیں رکھا جائے گا۔

’ ہم ہمیشہ کے لیے مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھنے کے لیے نہیں جا رہے۔‘

تاہم امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ہم یہ نہیں کر سکتے کہ گھڑی پر نصف شب کو گھنٹی بجنے کے ساتھ ہی مذاکرات ختم کر دیں۔

ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹر اکانٹ پر پیغام میں لکھا کہ’ میرے الفاظ لکھ لیں، آپ ندی کے وسط سےگھوڑوں کے رخ کو تبدیل نہیں کر سکتے۔‘

اپنے ایک پیغام میں مذاکرات میں شامل فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ صورتحال مثبت سمت میں جاری ہے۔

خیال رہے کہ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں جاری مذاکرات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی جوہری پروگرام پر ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں جن میں گذشتہ منگل کی ڈیڈلائن تک اتفاق رائے نہ ہونے پر ایک ہفتے کی توسیع کر دی گئی تھی۔

ایران کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ایران عالمی طاقتوں سے معاہدے کی صورت پر اپنے پر عائد اقتصادی پابندیوں کا فوری خاتمہ چاہتا ہے جن کی وجہ سے اُس کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ امکان نہیں کہ مذاکرات اب مزید کئی ہفتوں تک جاری رہیں گے۔

یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ ایران اور عالمی طاقتیں اب بھی تین بنیادی امور پر اتفاقِ رائے نہیں کر سکیں۔ ان میں سے ایک تو ایران کی غیر جوہری تنصیبات کی بین الاقوامی معائنہ کاری کا معاملہ ہے اور دوسرا یہ کہ یہ کیسے تصدیق کی جائے گی کہ ایران اپنے وعدے پورے کر رہا ہے۔

ایران یہ بھی چاہتا ہے کہ اقوامِ متحدہ اس پر عائد ہھتیاروں کی خریدو فروخت کی پابندی ہٹا دے لیے تاہم امریکہ ایسا نہیں چاہتا۔

اسی بارے میں