’کروڑوں سرکاری ملازمین کی ذاتی معلومات چوری کی گئیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption ہیکنگ کے اس واقعے کی وجہ سے کانگریس نے تحقیقات کا آغاز کیا اور امریکہ کے سائبر دفاع کے نظام پر شدید تنقید کی گئی

امریکی حکام نے جمعرات کے روز اعتراف کیا ہے کہ ہیکروں نے حکومتی ڈیٹا بیس ہیک کر کے کم از کم دو کروڑ 15 لاکھ سرکاری ملازمین کی ذاتی معلومات حاصل کی ہیں۔

آفس آف پرسنل مینیجمنٹ (او پی ایم) کے مطابق اس ہیک سے متاثر ہونے والوں میں سرکاری نوکریوں کے درخواست گزاروں اور وفاقی کنٹریکٹروں سمیت لاکھوں شراکت دار شامل ہیں۔

ماضی میں سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مقابلے میں اس بار متاثرہ لوگوں کی تعداد پانچ گنا زیادہ بتائی گئی ہے۔

اپریل میں منظرِ عام پر آنے والی اس ہیکنگ کا ذمہ دار چین کو ٹھہرایا جا رہا تھا۔

ادھر بیجنگ نے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

ہیکنگ کے اس واقعے کی وجہ سے کانگریس نے تحقیقات کا آغاز کیا اور امریکہ کے سائبر دفاع کے نظام پر شدید تنقید کی گئی۔

امریکہ میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے اراکین نے آفس آف پرسنل مینیجمنٹ کی سربراہ کیتھرین ارکیولیٹا کو نوکری سے نکالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption چوری ہونے والی معلومات میں لوگوں کے مالی ریکارڈ، صحت کے ریکارڈ، ماضی کا ممکنہ مجرمانہ ریکارڈ اور گھروں کے پتے شامل ہیں

امریکی ایوانِ نمائندگان کے سپیکر جان بینر کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کو اپنی انتظامیہ میں نااہلی کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔

گذشتہ ماہ ایک اور واقعے میں 42 لاکھ موجودہ اور سابق سرکاری ملازمین کی ذاتی معلومات چوری کر لی گئی تھیں۔

جمعرات کو کیے جانے والے اعلان میں او پی ایم کا کہنا تھا کہ حالیہ واقعے کی تفتیش کے دوران یہ معلوم ہوا ہے کہ دو کروڑ 15 لاکھ افراد کے سوشل سکیورٹی نمبر بھی چوری کیے گئے ہیں۔

چوری ہونے والی معلومات میں لوگوں کے مالی ریکارڈ، صحت کے ریکارڈ، ماضی کا ممکنہ مجرمانہ ریکارڈ اور گھروں کے پتے شامل ہیں۔

متاثرہ لوگوں میں ایک کروڑ 97 لاکھ ایسے افراد ہیں جن کا مالی بیک گراؤنڈ چیک کیا گیا اور 18 لاکھ مزید افراد ہیں جن میں سے زیادہ تر سرکاری ملازتوں کے لیے درخواست گزاروں کے شریکِ حیات ہیں۔

آفس آف پرسنل مینیجمنٹ (او پی ایم) امریکی حکومت کے لیے ایچ آر کے ادارے کا کام کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب تک کی تفتیش کے مطابق چوری کی گئی معلومات کا ابھی تک غلط استعمال نہیں کیا گیا، تاہم ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص جس کا سنہ 2000 کے بعد مالی بیک گراؤنڈ چیک کیا گیا، اس کا اس ہیکنگ سے متاثر ہونے کا امکان ہے۔

گذشتہ ماہ امریکی نیشنل انٹیلیجنس کے چیف جیمز کلیپر نے کہا تھا کہ اس ہیکنگ کے سلسلے میں چین پر سب سے زیادہ شک کیا جا رہا ہے۔ ان کا بیان چین اور امریکہ کے درمیان سائبر سکیورٹی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے تین روز بعد آیا۔

اس ہفتے کے آغاز میں صدارتی امیدوار اور سابق وزیرِ خارجہ ہلیری کلٹن نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ چین امریکہ میں ہر چیز میں ہیک کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین بارہا ان الزامات کی تردید کر چکا ہے اور کہنا ہے کہ امریکی الزام تراشی بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ ہے۔

اسی بارے میں