اقوام متحدہ کا یمن میں عارضی جنگ بندی کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ Reuter
Image caption خلیجی ریاستوں نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کی مالی مدد کر رہا ہے

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری لڑائی میں جمعے سے شروع ہونے والی جنگ بندی ماہ رمضان کے آخر تک جاری رہے گی۔

اقوام متحدہ کے مطابق انسانی بنیادوں پر ہونے والی جنگ بندی کی مدت 17 جولائی کو ختم ہو جائے گی۔

یمن میں رواں سال مارچ میں سعودی عرب کی کمان میں شروع ہونے والے فضائی حملوں میں اب تک تین ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امدادی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یمن کو مسدود کرنے سے انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے۔ یمن کی ڈھائی کروڑ کی آبادی میں سے 80 فیصد افراد کو امداد کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیون ڈیوجرک کا کہنا ہے کہ ’انسانی بنیادوں پر لڑائی میں ہونے والے وقفے کے دوران مستحق افراد کے لیے بغیر کسی رکاوٹ کے فوری اور ہنگامی امداد ناگزیر ہے۔‘

یہ جنگ بندی مقامی وقت کے مطابق جمعے کو رات 11:59 منٹ پر شروع ہو گی۔

حالیہ ماہ کے دوران یمن میں مختلف گروہوں کے درمیان لڑائی میں کمی آئی ہے، تاہم صدر منصور ہادی کے حامی فوجیوں اور حوثی باغیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ حوثیوں نے صدر منصور ہادی کو رواں سال فروری میں دارالحکومت صنعا چھوڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔

مارچ میں صدر ہادی کا گڑھ تصور کیے جانے والے علاقے عدن میں حوثیوں کے قبضے کے بعد سعودی عرب نے سابق صدر ہادی کی درخواست پر یمن میں فضائی بمباری شروع کی تھی۔

خلیجی ریاستوں نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حوثی باغیوں کی مالی مدد کر رہا ہے۔ جبکہ ایران نے یہ الزامات مسترد کیے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری لڑائی میں ہلاک ہونے والے تین ہزار افراد میں سے کم سے کم 1528 عام شہری ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری لڑائی میں ہلاک ہونے والے تین ہزار افراد میں سے کم سے کم 1528 عام شہری ہیں

اس بحران کی وجہ سے دس لاکھ افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

فلاحی اداروں کا کہنا ہے کہ یمن میں ایندھن کی کمی سے امداد کی فراہمی اور موثر طبی سہولتوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

اس سے قبل اتحادی افواج نے رواں سال مئی میں پانچ دن کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن اس دوران زیادہ تر امدادی سرگرمیاں نہیں ہو سکی تھیں۔

جغرافیائی لحاظ سے یمن انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یمن کی آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور یہی آبی گزرگاہ تیل کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

اسی بارے میں