بحرین: حقوقِ انسانی کے کارکن نبیل رجب کو رہا کر دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نبیل رجب نے سنہ 2002 میں بحرین میں حقوق انسانی کی تنظیم بنائی تھی اور اس وقت سے انھیں متعدد بار جیل بھیجا جا چکا ہے

بحرین کی سرکاری نیوز ایجنسی بی این اے کے مطابق حقوق انسانی کے نمایاں کارکن نبیل رجب کو بادشاہ حماد کی جانب سے معافی دیے جانے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ نبیل رجب کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سکیورٹی اداروں کے خلاف پوسٹ کرنے پر چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

نبیل رجب پر عوامی اداروں اور فوج کی توہین کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

بی این اے کے مطابق بادشاہ حماد نے نبیل رجب کو ان کی صحت کی خرابی کے پیشِ نظر تین ماہ کے بعد رہا کرنے کا حکم جاری کیا۔

بحرین کی اپیلز کورٹ نے مئی میں نبیل رجب کو دی جانے والی چھ ماہ قید کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔

نبیل رجب نے سنہ 2002 میں بحرین میں حقوق انسانی کی تنظیم بنائی تھی اور اس وقت سے انھیں متعدد بار جیل بھیجا جا چکا ہے۔

نبیل رجب کو اپریل میں گرفتار کر کے ان پر ٹوئٹر کے ذریعے بحرین کے عوامی اداروں کی توہین کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ بحرین کے سکیورٹی اداروں نے جہادیوں کے لیے ’نظریاتی انکیوبیٹر‘ کے طور پر کام کیا۔

بحرین میں فروری سنہ 2011 سے سیاسی کشیدگی ہے اور جمہوریت کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

بحرین میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے شاہی خاندان کی حکومت ہے لیکن بحرین کی آبادی کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

حقوق انسانی کی تنظیمیں متعدد بار بحرین میں سیاسی اور حقوق انسانی کے کارکنوں کے خلاف حکومت کی کارروائیوں اور انھیں دی جانے والی سزاؤں پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔

اسی بارے میں