’بات آگے بڑھی ہے، مگر کچھ معاملات اب بھی حل طلب ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے جبکہ ایران اس بات پر مصر ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے

امریکی صدر کے دفتر وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں معاہدے کے سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے تاہم کچھ معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی کے نمائندے ایران کی جوہری سرگرمیوں پر ایرانی حکام سے ویانا میں مذاکرات کر رہے ہیں۔

امید کی جا رہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے ایران پر عائد کی جانے والی اقتصادی پابندیا ہٹائے جانے کے بعد ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر تیار ہو جائے گا۔

بات چیت کا سلسلہ پیر کو رات گئے تک جاری رہا اور ایک اور ڈیڈ لائن معاہدے کے اعلان کے بغیر گزر گئی۔

تاہم ایرانی نیوز ایجنسی ’اسنا‘ نے منگل کی صبح کہا ہے کہ ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جاوید ظریف اور یورپی یونین کی فارن پالیسی کی سربراہ ویانا میں چند گھنٹوں کے دوران ایک ’مشترکہ بیان‘ پڑھ کر سنا سکتے ہیں۔

ویانا میں پیر کو سارا دن ایران کے جوہری مذاکرات پر کسی معاہدے پر پہنچنے کے متضاد جائزے بنتے اور ٹوٹتے رہے۔

اس دوران ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے کہا تھا کہ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان اس کے جوہری پروگرام پر جامع معاہدہ پیر تک نہیں ہو سکتا۔

اس سے پہلے یہ اطلاعات آ رہی تھیں کہ اس حوالے سے پیش رفت ناگزیر ہے تاہم جاوید ظریف نے ویانا میں میڈیا کو بتایا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر منگل سے پہلے کوئی معاہدہ نہیں ہو سکتا۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق متازع امور کو حل کرنےکے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس سے پہلے ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے کہا تھا کہ عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان اس کے جوہری پروگرام پر جامع معاہدہ پیر تک نہیں ہو سکتا

ان متنازع امور میں ایران کا مطالبہ کہ ہتھیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر عائد پابندی ختم کر دی جائے اور اس کے جوہری پروگرام کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا جائے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا ہے کہ ’ بات آگے بڑھی ہے‘ تاہم اہم معاملات طے ہونا باقی ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے رہنماؤں کو ’کچھ سخت‘ فیصلے کرنے ہوں گے۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین، روس اور جرمنی اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جائے جبکہ ایران اس بات پر مصر ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

ویانہ میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رابنز کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں گھڑیاں بہت سست رفتار سے چل رہی ہیں۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے تجویز پیش کی ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے پیر کی رات تک معاہدہ ممکن ہے تاہم ایرانی وزیرِ خارجہ جاوید ظریف سے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

ایران کے وزیرِ خارجہ جاوید ظریف نے ویانہ میں جاری مذاکرات کے درمیان وقفے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تھک چکے ہیں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کوئی معاہدہ ہو سکتا ہے کہ ان کا کہنا تھا کہ پیر تک ایسا ممکن نہیں تاہم منگل کو ایسا ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انھوں نے بعد میں ٹوئٹر پر لکھا ’اگر کوئی معاہدہ ہو گیا تو یہ سفارت کاری کی جیت ہو گی، ہم سب کی جیت ہو گی‘

دریں اثنا چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی معاہدے کو مکمل طور پر درست ہونے کی امید نہیں ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ اچھے معاہدے کے حوالے سے شرائط پہلے ہی سے موجود ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ مذاکرات میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق مذاکرات کار ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان سو صفحات پر مشتمل معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں پانچ تکنیکی اینیکسز بھی شامل ہیں۔

سفارت کاروں نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ان میں انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کی ممکنہ تفتیش کے ساتھ ساتھ ایران کا یہ مطالبہ کہ ہتھیاروں کی خرید و فروخت سے متعلق اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر عائد پابندی ختم کر دی جائے، دوسرا یہ کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے منظور کردہ کسی بھی جوہری معاہدے کی قرارداد میں ایسے الفاظ کا استعمال نہ کیا جائے جس سے یہ ظاہر ہو کہ ایران کا جوہری پروگرام غیر قانونی ہے شامل ہے۔

اسی بارے میں