امریکی استانی کے قتل پر خاتون کی سزائے موت پر عملدرآمد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ میں یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ موت کی سزا پر عمل درآمد کیسے کیا گیا

متحدہ عرب امارات میں ایک امریکی استاد کے قتل کے جرم میں ایک خاتون کو سنائی گئی سزائے موت پر عملدرآمد ہو گیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے متحدہ عرب امارات کی مقامی نیوز ایجنسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ سزا پانے والی خاتون نے کنڈرگارٹن میں پڑھانے والی ایک استانی کو دسمبر 2014 میں قتل کیا تھا۔

البدر عبداللہ الہاشمی نامی 31 سالہ خاتون کو گذشتہ سال عدالت نے امریکی استانی ابولیا رائن کو دبئی کے ایک شاپنگ مال میں چھری مار کر قتل کرنے اور ایک مصری نژاد امریکی ڈاکٹر کے گھر کے باہر بم نصب کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔

خبر رساں ادارے ڈبلیو اے ایم کے مطابق موت کی سزا پانے والی خاتون پر انسدادِ دہشت گردی کی دفعات کے تحت یہ الزام بھی لگایا گیا کہ انھوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر اپنے اکاؤنٹ بنا رکھے ہیں اور وہ دہشت گرد تنظیموں کو حملے کرنے کے لیے رقم فراہم کرتی ہیں۔

رپورٹ میں یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ البدر عبداللہ الہاشمی کی موت کی سزا پر عمل درآمد کیسے کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متحدہ عرب امارات بھی شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں گذشتہ سال انٹرنیٹ پر انتہا پسندی کی جانب مائل کیا گیا۔ وہ خاص طور پر امریکیوں کو نشانہ نہیں بنا رہی تھیں بلکہ ان کا نشانہ غیر ملکی تھے۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات بھی شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے۔ یہ شدت پسند تنظیم متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک میں موجود مسلمانوں کو ترغیب دے رہی ہے کہ وہ خلیجی ممالک میں غیرملکیوں کو نشانہ بنائیں۔

دبئی کے اخبار دی نیشنل کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران البدر عبداللہ الہاشمی نےذہنی معذوری کا دعویٰ کیا تھا تاہم میڈیکل رپورٹوں کے مطابق وہ ذہنی طور پر صحت مند تھیں۔

واضح رہے کہ دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے ستمبر 2014 میں ایک اخباری مضمون میں لکھا تھا کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے نظریات دنیا بھر کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں جن کا سامنا دنیا کو آئندہ دہائی میں ہو گا۔

اسی بارے میں