بیل آؤٹ کا یونانیوں پر کیا اثر ہو گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty images

یورو زون کی جانب سے تیسرے بیل آؤٹ پیکج کی سخت شرائط کے بعد یونان کے عوام آئندہ چند برس اقتصادی مشکلات سے دوچار رہیں گے۔

حکمران جماعت کے انتخابی وعدوں کے برعکس اس نئے معاہدے میں ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے، اخراجات میں کمی اور عوام کو کفایت شعاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یونان اب آمریت کے شکنجے میں؟

ایک ایسا ملک جو کئی برسوں سے اقتصادی تنگی برداشت کر رہا ہے۔ ایسے میں یونان کے عوام اس آزمائش کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور اس سے اُن کی زندگیوں پر کیا اثر پڑے گا؟

طویل اقتصادی کساد بازاری

یہ ایک حقیقت ہے کہ سنہ 1930 کی عالمی کساد بازاری کے بعد یونان کو اس وقت بدترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔

یونان کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سنہ 2008 کی پہلی سہ ماہی میں اقتصادی سرگرمیاں محددو ہونا شروع ہوئیں اور صرف سنہ 2014 میں معمولی اقتصادی ترقی کے علاوہ یونان کی اقتصادی کارکردگی میں کمی ہی ہوئی ہے۔ اس اقتصادی کساد بازاری نے یونان کی معیشت کو ایک چوتھائی ختم کردیا ہے جو کہ سنہ 1950 کے بعد ترقی یافتہ ملک میں معیشت میں اب سے زیادہ کمی ہے۔

اگرچہ یونان کا اقتصادی بحران اتنا سنگین نہیں جتنا کہ سنہ 1930 کی عالمی کساد بازاری تھی لیکن کئی مبصرین کے خیال میں سنہ 2015 میں بھی یونان کی خام ملکی پیداوار یا جی ڈی پی میں کمی آئے گی۔

ملازمت کے مواقعوں میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

یونان میں ملازمت کے مواقعوں پیدا ہونا کافی مشکل ہے خاص کر کے نوجوانوں کے لیے۔ یونان کی 25 فیصد افرادی قوت بے روزگار ہے اور نوجوانوں میں بےروزگاری کی شرح بڑھ رہی ہے۔

25 سال سے کم عمر افراد میں نصف بےروزگار ہیں جبکہ مغربی یونان کے بعض علاقوں میں نوجوانوں میں بےروزگاری کی شرح 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ طویل مدت میں بھی یونان میں بےروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا پریشان کن ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک خاص عرصے تک بےروزگار رہنے کے منفی نتائج مرتب ہوتے ہیں۔ جتنے زیادہ عرصے تک کوئی شخص بےروزگار رہے گا تو وہ ملازمت کرنے کا قابل بھی اتنا ہی کم رہتا ہے۔ بے روزگار افراد کو دوبارہ ملازمت کرنے والے افراد میں شامل ہونا زیادہ مشکل اور مہنگا ہے۔

نوجوان افراد بالخصوص طویل بے روزگاری سے متاثر ہوتے ہیں اور ایک سال سے زیادہ عرصے سے ہر تین میں سے ایک نوجوان بے روزگار ہے۔ دو سال تک بےروزگار رہنے سے ہیلتھ انشورنس بھی ختم ہو جاتی ہے۔

زیادہ عرصے تک بےروزگار رہنے کا مطلب یہ ہے کہ برسرِ روزگار افراد پینشن کے فنڈ میں کم پیسے جمع کروا رہے ہیں اور اگر زیادہ تر یونانی بےروزگار ہیں تو خاندانوں کا زیادہ دارومدار پینشن کی قلیل آمدن پر ہے۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 45 فیصد پینشنرز کی ماہانہ آمدن خطِ غربت یعنی 665 یورو سے بھی کم ہے۔

آمدن میں کمی

یونان کے عوام کو آمدن میں کمی کا سامنا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

سنہ 2008 -2013 کے دوران یونان میں 40 فیصد افراد غریب ہوئے ہیں۔ ملازمتیں ختم ہونے اور اجرت میں کمی سے ’سوشل بینفیٹ‘ کی مد میں جمع کروائی گئی رقوم میں بھی کمی ہوئی ہے۔

سنہ 2014 میں یونان کے خاندانوں کے پاس خرچ کرنے کے لیے رقوم کم ہو کر اتنی ہو گئی ہے جتنی سنہ 2003 میں اُن کے پاس ہوا کرتی تھی۔

غربت میں اضافہ

اس کساد بازاری سے سب سے زیادہ غریب اور پسماندہ طبقہ متاثر ہوا ہے۔

ہر پانچ میں سے ایک یونانی شہری شدید دماغی تناؤ کا شکار ہے۔ سنہ 2014 میں یونان کی 40 لاکھ آبادی یا ملک کی ایک تہائی آبادی کو غربت اور سماجی طور پر تنہا ہونے جیسے خطرات کا سامنا ہے۔

ایتھنز یونیورسٹی کے شعبہ اقتصادیات سے وابستہ پروفیسر پانوس کا کہنا ہے کہ اس بحران نے یونان کے سوشل سیفٹی نیٹ ورک کی قلعی کھول دی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’فلاحی ریاست کے طور پر یونان تاریخی لحاظ سے بہت کمزور رہا ہے۔ ماضی میں یہ اتنا ضروری نہیں تھا کیونکہ اس سے پہلے شاذو نادر کبھی ایسے حالات ہوئے ہوں۔ خاندان ایک ریاست کے متبادل کا کردار ادا کرتے تھے۔‘

اگر کوئی نواجوان شخص ملازمت سے فارغ ہو جاتا ہے اور گریجوئیشن کرنے کے بعد بھی اُسی نوکری نہیں ملتی تو حالات بہتر نہ ہونے تک اپنے خاندان سے مدد لے گا لیکن اگر زیادہ سے زیادہ افراد بےروزگار ہوں گے، کفایت شعاری کی وجہ سے پینشنز میں کمی ہو گا، اس سے یونان کے عوام پر اثر پڑے گا۔

ڈاکٹر پانوس نے کہا کہ ’اس سے بہت سے بےروزگار افراد تیزی سے غربت میں دھکیلتے چلے جائیں گے۔‘

بینادی ضروریات میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اس بحران سے سرکاری شعبے میں سب سے زیادہ صحت عامہ کا شعبہ متاثر ہو گا۔ ایک اندازے کے مطابق انشورنس نہ ہونے اور غربت کی وجہ سے آٹھ لاکھ افراد کو طبی سہولیات میسر نہیں ہوں گی۔

سنہ 2014 میں ایک طبی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اقتصادی بحران سوشل سیکٹر اور صحت عامہ کے نظام کے لیے تباہ کن ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’جس رفتار اور پیمانے سے تبدیلی لائی جا رہی ہیں اس سے آبادی کی ضروریات کے مقابلے میں صحت عامہ کا شعبہ محدود ہو رہا ہے۔‘

دوسری جانب سماجی طور پر رضاکارانہ صحت عامہ کے لیے کی جانے والی کوششوں سے کچھ فرق پڑا ہے۔ لیکن بجٹ میں کٹوتی کی وجہ سے نشے کے عادی افراد کے علاج کے مرکز اور نفسیاتی امراض کی طبی مراکز بند ہو گئے ہیں۔

دماغی صحت

اقتصادی بحران کے اثرات عوام کی دماغی صحت پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔

اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سنہ 2011 کے بعد اب تک شدید ڈپریشن کے مریضوں کی شرح تین فیصد سے بڑھ کر آٹھ فیصد ہو گئی ہے۔

برطانوی طبی جریدے میں شائع ہونے والے سروے کے مطابق سنہ 2010-2012 کے درمیان یونان میں خودکشی کی شرح 35 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

محقق کا کہنا ہے کہ افرادی قوت میں خودکشی کی اہم وجہ کفایت شعاری کے اقدامات ہیں۔

یونان میں دماغی امراض کے سرکاری اور غیر سرکاری سہولیات میں کٹوتی کی گئی ہے جبکہ بچوں کے نفسیاتی علاج کے اداروں کی تعمیر کا کام بھی روک دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ getty Images

سنہ 2010 -2011 کے دوران دماغی صحت کے لیے مختص بجٹ میں 20 فیصد کمی کی گئی اور بعد میں فنڈنگ 55 فیصد تک کم ہوئی ہے۔

تعلیم یافتہ افراد کا ملک چھوڑ کر جانا

آمدن اور روزگار کے مواقعوں میں کمی کی وجہ سے یونان کے افراد ملازمت کے بہتر مواقعوں کی تلاش کے لیے ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ گذشتہ پانچ برسوں میں یونان کی آبادی بڑھنے کے بجائے تقریباً 4 لاکھ نفوس کی کمی ہوئی ہے۔

سنہ 2013 میں ہونے والے سروے کے مطابق 2010 میں اقتصادی بحران شروع ہونے کے بعد سے اب تک ڈاکٹر، انجینئیرز، سائنسدانوں سمیت تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار افراد یونان چھوڑ کر دوسرے ملک گئے ہیں۔

یورپی یونیورسٹی کے سروے کے مطابق ملک چھوڑنے والے دس میں سے نو افراد یونیورسٹی سے فارع التحصیل ہیں اور 60 فیصد سے زیادہ افراد کے پاس ماسٹر کی ڈگری ہے جبکہ ملک چھوڑنے والے 11 فیصد افراد پی ایچ ڈی تھے۔

فوتتنی پلیمبی کو جب ملازمت سے نکالا گیا تو وہ 30 کے پیٹھے میں تھیں اور مالک نے یہ کہہ کر انھیں نکال دیا تھا کہ وہ تنخواہ نہیں دے سکتے۔

یونان میں ایک سال تک نوکری ڈھونڈنے کے بعد وہ سنہ 2013 میں برطانیہ چلی گئیں جہاں لندن میں انھیں فوری ملازمت مل گئی۔

’میرے پاس ملک چھوڑنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا۔میں کام کرنا چاہتی تھی اور یونان میں ملازمت کے مواقع نہیں تھے۔ میں خوشی سے واپس جانا چاہتی ہوں۔ میری پوری زندگی وہاں گزری۔ لیکن منطعق مجھے وہاں واپس جانے سے روکتی ہے۔ یہاں برطانیہ میں، میں وہ حاصل کر سکتی ہوں جو یونان میں نہیں کر سکتی۔‘

اسی بارے میں