شامی جنرل کو اسرائیلی کمانڈوز نے ہلاک کیا: خفیہ دستاویزات

تصویر کے کاپی رائٹ c
Image caption بریگیڈیئر جنرل محمد سلیمان کو سنائیپر نے بحیرہ روم کے علاقے طرطوس میں قتل کیا تھا

امریکی خفیہ دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ 2008 میں سینیئر شامی فوجی افسر کی ہلاکت میں اسرائیلی سپیشل فورسز شامل تھیں۔

یاد رہے کہ بریگیڈیئر جنرل محمد سلیمان کو سنائیپر نے بحیرہ روم کے علاقے طرطوس میں قتل کیا تھا۔

اسرائیل نے کبھی بھی اس الزام پر تبصرہ نہیں کیا کہ محمد سلیمان کی ہلاکت میں وہ ملوث تھا۔

سابق سی آئی اے کے اہلکار ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے منظر عام پر لائی دستاویزات انٹرسیپٹ ویب سائٹ کو فراہم کی گئی ہیں۔

منظر عام پر آئے امریکی خفیہ دستاویزات کے مطابق اسرائیل کے نیوی کمانڈوز نے بریگیڈیئر جنرل محمد سلیمان کو ہلاک کیا تھا۔

سابق امریکی انٹیلیجنس افسران کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات پر جو خفیہ ہونے کی رینکنگ ہے اس سے لگتا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن کو یہ معلومات اسرائیلی کمیونیکیشن سننے کے دوران معلوم ہوئی۔

بریگیڈیئر جنرل محمد سلیمان کی موت کے وقت عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ ان کو ایک گردن اور ایک سر پر گولی ماری گئی تھی۔ جس وقت ان کو ہلاک کیا گیا وہ یکم اگست 2008 کو ایک کشتی پر شام کا کھانا کھا رہے تھے۔

ذرائع کے مطابق بریگیڈیئر جنرل محمد سلیمان صدر بشار الاسد کے سکیورٹی کے امور کے مشیر تھے اور انھوں نے حزب اللہ کے ساتھ شامی رابطہ کار کے طور پر کام کیا تھا۔

بریگیڈیئر جنرل محمد سلیمان کے قتل کے بعد ایک کیبل میں ان کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ بشار الاسد کے بہت قریب تھے۔

کیبل کے مطابق انھوں نے بشار الاسد کے لیے کچھ ایسے آپریشن بھی کیے تھے جن کا علم فوج کو نہیں تھا۔

کیبل میں کہا گیا ہے کہ ان کے قتل میں واضح الزام اسرائیل ہی پر جاتا ہے۔

’شام کی سکیورٹی ایجنسیوں کو معلوم ہے کہ طرطوس میں اسرائیلی سپیشل فورسز کو کارروائی کرنے میں قدرے آسانی تھی۔‘

بدھ کو شائع ہونے والے این ایس اے کے خفیہ دستاویزات میں کہا گیا ہے ’اسرائیلی کمانڈوز کی جانب سے بریگیڈیئر جنرل محمد سلیمان کا قتل پہلا ایسا واقعہ ہے جس میں اسرائیل نے جائز سرکاری ہدف کو نشانہ بنایا ہو۔‘

اسی بارے میں