عدن میں حوثی باغیوں کی بمباری سے 43 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption رواں برس مارچ سے ہی عدن جنگ کا اہم محاذ بنا ہوا ہے

یمن میں حکام کے مطابق ملک کے جنوبی شہر عدن میں حوثی باغیوں کی بمباری میں کم از کم 43 افراد ہلاک اور سو سے زائد ہو گئے ہیں۔

یمن کی مفرور حکومت کے نائب صدر نے دو دن پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ عدن کو حوثی باغیوں سے ’آزاد‘ کروا لیا گیا ہے۔

حکومت کی حامی سکیورٹی فورسز شہر پر اپنا کنٹرول مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور انھیں سعودی عرب کی کمان میں جاری اتحادیوں کی فضائی طاقت کی مدد بھی حاصل ہے۔

سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ہفتے شہر کے زیادہ تر حصوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا تاہم شہر کے جنوبی جزیرہ نما علاقے تواہی کا کنٹرول حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہ علاقہ باغیوں کا مضبوط گڑھ ہے اور یہاں سے باغیوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بمباری کی جس میں حکام کے مطابق 43 افراد ہلاک ہو گئے۔

گذشتہ چار ماہ کے دوارن عدن میں باغیوں اور حکومتی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

رواں سال مارچ میں حوثی باغیوں کی جانب سے پیش قدمی کے بعد حکومت نے اپنا گڑھ سمجھے جانے والا شہر عدن چھوڑ دیا تھا۔

گذشتہ ہفتے عدن میں حوثی باغیوں کو پسپا کرنے کے لیے آپریشن شروع کیا گیا تھا جس میں کسی حد تک کامیابی ہوئی ہے۔

جمعرات کو ملک کے مفرور صدر منصور ہادی کی حکومت میں شامل کئی وزرا اور خفیہ اداروں کے حکام عدن پہنچے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ یہ حکام ہیلی کاپٹر کے ذریعے جمعرات کو ساحلی شہر پہنچے۔

عدن یمن کا دوسرا بڑا شہر ہے اور یہاں ملک کی مرکزی بندرگاہ بھی ہے۔ ہفتوں سے جاری لڑائی اور فضائی حملوں کی وجہ سے شہر کو نقصان پہنچا ہے۔

عدن شہر سے پسپائی کو باغیوں کے لیے ایک بڑے جھٹکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اس سال مارچ سے ہی عدن جنگ کا اہم محاذ بنا ہوا ہے۔

یمن میں صدر ہادی کے اقتدار کو پھر سے بحال کروانے کے لیے سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی افواج حوثي باغیوں اور ان کے حامی جنگجوؤں پر 26 مارچ سے فضائی حملے کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ نے یمن میں جمعے سے انسانی بنیاد پر جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن کچھ دیر بعد جنگ بندی ٹوٹ گئی اور فریقین میں شدید لڑائی شروع ہو گئی۔

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ پندرہ ہفتے سے یمن میں جاری لڑائی میں کم سے کم 3200 افراد مارے جا چکے ہیں جن میں نصف سے زیادہ عام شہری ہیں.

اس کے علاوہ 10 لاکھ سے بھی زیادہ لوگ یمن چھوڑ چکے ہیں اور یمن کی دو تہائی آبادی کو اس وقت انسانی مدد کی سخت ضرورت ہے۔

اسی بارے میں