مشرق وسطیٰ کے صحرا میں ایرانی جھکّڑ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جدید مشرق وسطیٰ میں ایران کی شمولیت کے بغیر کچھ طے نہیں کیا جا سکتا۔

آخری مرتبہ جب مشرق وسطیٰ تلپٹ ہوا تھا تو صاف ظاہر تھا کہ نیا مشرق وسطیٰ تعمیر کرنے کی دعوت کسے دی جانا تھی۔

اسی لیے جب اس خطے میں ترک سلطنت کا شیرازہ بکھرا اور اس کے ٹکڑے جنگ عظیم کے تیز جھکّڑوں میں صحراؤں میں ادھر سے ادھر اڑ رہے تھے تو تعمیر نو کی یہ ذمہ داری برطانیہ اور فرانس کی سامراجی طاقتوں کے ہاتھ آئی۔

نوجوانوں کی ایک پوری نسل کا خون اور صدیوں میں جمع کی ہوئی دولت دونوں یورپ کے مغربی محاذ پر پانی کی طرح بہا دیے گئے، لیکن اُس وقت ’قدیم دنیا‘ میں ایسا کچھ بھی نہیں تھا کہ اس پر جنگ ہوتی۔

لیکن ’قدیم دنیا‘ کے برعکس مشرق وسطیٰ کا معاملہ الگ تھا۔

یروشلم، دمشق، سینائی اور غزہ میں ترکوں کی شکست کے بعد ایک نئی دنیا کی تشکیل کا وقت آ چکا تھا۔

لیگ آف نیشن کی جانب سے ’سرزمین مقدس‘ پر حکومت قائم کرنے کی اجازت کے تحت برطانیہ نے دنیا بھر کے یہودیوں کے لیے فلسطین میں ان کا ایک قومی گھر تعمیر کرنے کا وعدہ نبھانا شروع کر دیا۔ برطانیہ کو شاید اندازہ ہی نہیں تھا کہ یہودیوں کے ساتھ کیے ہوئے اس وعدے کے ساتھ کئی ایسے مسائل بھی نتھی ہیں جو ایک صدی گذر جانے کے بعد بھی اس خطے میں بد اعتمادی اور بدامنی کا سامان بنے رہیں گے۔

یہ وقت عالمی سطح پر بہت بڑی تبدیلیوں کا وقت تھا اور ہر خطے میں نئی اقوام اور ملک اس طرح وجود میں آ رہے تھے جیسے سمندر میں زلزلہ آنے کے بعد ہر جگہ چھوٹے چھوٹے نئے جزیرے ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اردن اور عراق برطانیہ کے سائے تلے آ گئے اور شام اور لبنان فرانس کے حلقۂ اثر میں آ گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ ہفتہ مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کا ہفتہ تھا۔

سامراجیت کے اُس دور میں کسی نے بھی نہیں پوچھا کہ یورپ کو دنیا کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کا حق کس نے دیا، اُس وقت ایسا کوئی ایک ملک بھی نہیں تھا جسے یورپی طاقتیں خاطر میں لاتیں۔

سائکس پکاٹ کا معاہدہ

معاہدۂ سائکس پکٹ وہ خفیہ معاہدہ تھا جو جنگ عظیم اوّل کے دوران مئی 1918 میں روس کی رضامندی سے برطانیہ اور فرانس کے درمیان طے پایا اور اس کا مقصد خلافت عثمانیہ کے حصے بخرے کرنا تھا۔

اس معاہدے کے تحت شام کے تُرک علاقے، عراق، لبنان اور فلسطین کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے فرانس اور برطانیہ کے ماتحت کر دیا گیا۔ اس معاہدے کا نام برطانوی مذاکرات کار مارک سائکس اور فرانسیسی مذاکرات کار جارج پکٹ کے ناموں کو ملا کر بنایا گیا تھا۔

کچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ پہلے دن سے ہی اختلافات کا شکار ہو گیا تھا کینوکہ اس معاہدے سے پہلے برطانیہ اس وقت کے ہاشمی شریفِ مکہ، حسین ابن علی سے وعدہ کر چکا تھا کہ حجاز میں خلافت عثمانیہ کے خلاف جاری مزاحمت کی کامیابی کے بعد مفتوحہ علاقے کا ایک بڑا حصہ عربوں کو دے دیا جائے گا۔

متروک سرحدیں

گذشتہ چند برسوں سے ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ کے صحراؤں میں تیز جھکّڑ چلنا شروع ہو چکے ہیں اور ان جھکّڑوں میں ان ممالک کے در و دیوار ہلنا شروع ہو گئے ہیں جنھیں ایک صدی پہلے وجود میں لایا گیا تھا۔

شام خانہ جنگی کی آگ میں جل رہا ہے اور مشکل نظر آتا ہے کہ یہ ملک اس آگ سے نکل کر ایک اکائی کی صورت میں قائم رہے گا۔

شام کے ہمسائے میں لبنان ہے جو خود کئی برسوں سے مختلف مذہبی برادریوں کے باہمی تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور اور اسے بھی سکھ کا سانس نصیب نہیں ہو سکا ہے۔

کردوں، سنیوں اور شیعوں کو عراق میں ایک جگہ جمع کر کے برطانیہ نے جو ملک تشکیل دیا تھا، ہو سکتا ہے اس کی مختلف آبادیاں مستقبل میں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ ایران ہی ہے جس نے لبنان میں حزب اللہ کو بنایا اور اسے اتنی امداد دی کہ وہ خطے میں جنگ لڑ سکے۔

مشرق وسطیٰ کی پرانی سرحدیں تقریباً ایک صدی تک قائم رہیں، اور ہم یقین سے نہیں بتا سکتے کہ جب برطانیہ اور فرانس یہ سرحدیں کھینچ رہے تھے تو ان کے خیال میں ان سرحدوں کی زندگی کتنی تھی۔

اگرچہ جنگ عظیم اوّل جیسی کوئی بڑی قیامت نہیں آئی ہے کہ جو آنے والے وقت میں تبدیلیوں کا موجب بنے، لیکن گذشتہ ہفتے دنیا کی بڑی طاقتوں نے آسٹریا کے شہر ویانا میں جس معاہدے پر دستخط کیے اس کی روسنی میں ہم آئندہ سالوں میں آنے والی کچھ تبدیلیوں کا اندازہ ضرور لگا سکتے ہیں۔

طاقت کا علاقائی مرکز

اگرچہ ویانا میں مذاکرات کا فوری مقصد ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینا تھا، لیکن یہ مذاکرات ایک لحاظ سے اس بات کا اعتراف بھی تھے کہ ایران ایک علاقائی طاقت ہے اور جدید مشرق وسطیٰ میں ایران کی شمولیت کے بغیر کچھ طے نہیں کیا جا سکتا۔

آپ جو بھی کہہ لیں لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ شام میں بشارالاسد کی ڈگمگاتی حکومت کو بچانے میں سب سے بڑا کردار ایران کا ہے اور یہ ایران ہی ہے جس نے لبنان میں حزب اللہ کو بنایا اور اسے اتنی امداد دی کہ وہ خطے میں جنگ لڑ سکے۔

دوسری جانب عراق میں ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا وہاں پر موجود سُنّی شدت پسندوں سے لڑ رہی ہے اور اکثر اوقات جہاں عراقی فوج ناکام ہو کر پسا ہو جاتی ہے وہاں یہ خلاء یہی شیعہ مسلیشیا پُر کرتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ایران کے اثر و رسوخ کی ایک اور مثال یمن میں مرکزی حکومت کے خلاف برسر پیکار حوثی باغی ہیں۔

خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کی ایک اور مثال یمن میں مرکزی حکومت کے خلاف برسر پیکار حوثی باغی ہیں۔

شیعہ اسلام کی دنیا میں ایران ایک عظیم طاقت ہے، بالکل اسی طرح جیسے سعودی عرب خود کو سُنّی مسلمانوں کا رہنما سمجھتا ہے۔

بڑی جنگوں کے علاوہ ایران اور سعودی عرب کے پروردہ گروہ کئی ایسی چھوٹی جنگوں میں بھی ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہیں جنھیں دیکھ کر کبھی کبھی لگتا ہے کہ خطے پر دینی پیروی کی بنیاد پر کسی بڑے تنازعے کے بادل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔

بلاشبہہ امریکہ اب بھی مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی طاقت ہے، لیکن اس کی وہ طاقت نہیں رہی جو کبھی ہوا کرتی تھی۔

لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ آج کل کا دور عجیب دور ہے۔

اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ امریکہ شام میں جس قسم کی تبدیلی کا خواہاں ہے، ایران تُلا بیٹھا ہے کہ وہ کسی قیمت پر یہ تبدیلی نہیں آنے دے گا، لیکن دوسری جانب عراق میں امریکہ اور ایران دونوں دولتِ اسلامیہ کے وحشی جنگجوؤں کے خلاف جنگ میں مصروف ہیں۔

مشرق وسطیٰ کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں اس بات میں کوئی عار نہیں سمجھی جاتی کہ ’جو میرے دشمن کا دشمن ہے وہ میرا بھی دشمن ہے۔‘

لیکن گذشتہ ہفتہ مشرق وسطیٰ میں تبدیلی کا ہفتہ تھا۔

ایک وہ وقت تھا جب امریکہ اور ایران ایک دوسرے کو گُھورا کرتے تھے۔ ایران خود کو شیعہ برادریوں کے حقوق کا چیمپیئن اور انقلاب کا داعی سمجھتا تھا اور امریکہ ایران کو صرف دہشتگردی کا معاون ملک کہتا تھا۔

ہو سکتا ہے کہ اب اس سوچ میں تبدیلی آ جائے، تاہم ہم نہیں جانتے کہ یہ تبدیلی کتنی جلدی آئے گی اور اس کی عمر کیا ہوگی۔

صحرا میں چل رہے موجودہ جھکّڑوں میں یہ بتانا مشکل ہے کہ طوفان تھمنے کے بعد کس قسم کا مشرق وسطیٰ سامنے آئے گا، لیکن اس میں شک نہیں کہ ان دنوں سب سے تیز جھکڑ ایران سے سے ہی چل رہا ہے۔

اسی بارے میں