عراق: کار بم دھماکے کے بعد متعدد افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب مسلمان کے اپنے مقدس مہینے رمضان کے ختم ہونے کے بعد عید منا رہے تھے

عراق میں حکام کے مطابق جمعے ملک کے مصروف بازار میں ہونے والے کار بم دھماکے میں ملوث ہونے کے شک میں متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

عراق کے مشرقی صوبے دیالا کے قصبے خان بنی سعد کے بازار میں ہونے والے کار بم دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 120 افراد ہلاک اور سو سے زائد زحمی ہو گئے تھے۔

شدت پسند تنظیم ’دولتِ اسلامیہ‘ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ایک رکن نے کار میں موجود تین ٹن وزنی بم ہجوم میں لے جا کر دھماکہ کر دیا۔

عراقی پولیس کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان کے ختم ہونے کے بعد عید منا رہے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ شدید دھماکے کی وجہ سے عمارتیں تباہ ہو گئیں۔

دوسری جانب شدت پسند تنظیم ’دولتِ اسلامیہ‘ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

عراق پولیس کے میجر احمد الاتمیمی کا کہنا ہے کہ دھماکے سے ’ہولناک‘ نقصان ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چند افراد سبزی کے ڈبوں میں اپنے بچوں کی لاشوں کے ٹکڑوں کو اکھٹا کر رہے تھے۔

حکام نے دیالا صوبے میں تین دن کے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے عید کی دوسری تقربیات پر پابندی عائد کر دی تھی۔

شدت پسند تنظیم ’دولتِ اسلامیہ‘ نے عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضے کر رکھا ہے اور ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں میں حکومتی فورسز کے درمیان جنگ جاری ہے۔

اسی بارے میں